Urdu book · مضامین اسلام

اسلام میں عدل اجتماعی

Urdu book, p. 99

By Maulana Wahiduddin Khan

کرنے میں صرف اسلام ہی کیوں کامیاب ہوسکا۔ دوسرے نظام یا مذہب اس مقصد کے حصول میں ناکام کیوں ہوگئے۔ اس کی دو خاص وجہیں ہیں۔ دونوں کو واضح کرنے کے لیے یہاں ہم ہندوازم اور مسیحیت کی مثال دیں گے ۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ اسلام میں انسانی برابری کے حق میں ایک مکمل آئیڈیالوجی پائی جاتی ہے۔ جب کہ دوسرے کسی نظام میں ایسی آئیڈیالوجی موجود نہیں۔ مثال کے طور پر ہندوازم جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا، عین اپنے عقیدہ کی رو سے انسانیت کو دو حصوں میں تقسیم کرتا ہے۔ اس کی عین فلاسفی کا یہ تقاضا ہے کہ انسانوں میں ایک گروہ کو اونچا درجہ ملے ، اور دوسرے کو نیچے درجہ کی مخلوق سمجھا جائے۔ اس عقیدہ کی موجودگی میں دونوں گروہوں سے برابر کا معاملہ کیا جانا ممکن نہیں۔ جو لوگ اس اعتقادی نظام سے متاثر ہوں وہ کبھی ان لوگوں کو اپنا مساوی نہیں سمجھ سکتے جن کو وہ بظاہر اپنے سے کمتر دیکھ رہے ہوں۔ یہاں میں یاد دلاؤں گا کہ ۱۹۵۳ء میں پریزیڈنٹ آف انڈیا نے بیک ورڈ کلاس کمیشن (Backward Classes Commission) مقرر کیا تھا۔ اس کے چیرمین کا کا صاحب کا لیکر تھے۔ اس کمیشن نے مفصل جائزہ کے بعد ۱۹۵۵ء میں اپنی ۲۶۲ صفحہ کی رپورٹ پیش کی جو گورنمنٹ پریس سے ۱۹۵۶ء میں شائع ہوئی۔ یہ مطبوعہ رپورٹ دہلی پبلک لائبریری میں موجود ہے اور میں نے وہیں سے لے کر اس کو پڑھا ہے ۔ اس رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ بھارت میں ذات پات کا جو نظام پایا جاتا ہے وہ بقیہ دنیا سے بالکل الگ نوعیت کا ہے۔ یہ صرف معاشی اسباب سے نہیں ہے، جیسا کہ عام طور پر دوسرے ملکوں میں ہوتا ہے۔ بلکہ اس کے اسباب زیادہ گہرے ہیں۔ اس کی جڑیں بھارت کے اقتصادی نظام میں پائی جاتی ہیں۔ انھوں نے لکھا ہے کہ یہ صرف انڈیا کی خصوصیت ہے کہ اس نے سماجی نابرابری کو انسانی فطرت میں شامل قرار دیا۔ اس نے مذہبی اور روحانی پس منظر میں اس کو ایک پُراسرار ادارہ کی حیثیت دیدی : It is the peculiarity of India that it recognised the social differences inherent in human nature and gave them an institutional and mystic form with a religious and spiritual background. (p.14)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page