اسلام میں عدل اجتماعی
Urdu book, p. 100
By Maulana Wahiduddin Khan
کایلکر کمیشن نے جو بات کہی وہ عین مطابق واقعہ ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ انڈیا میں اونچ نیچ کو ایک پیدائشی فرق کی حیثیت دے دی گئی ہے۔ اس عقیدہ کے مطابق یہ ایک حتمی اور ناگزیر فطری حقیقت ہے۔ اور جہاں ایسا عقیدہ پایا جائے وہاں فرق کو مٹانے یا سب کو یکساں، انصاف دینے کا ذہن ہی سرے سے پیدا نہیں ہو سکتا۔ اس سلسلہ میں دوسری ریکارڈٹ کی مثال مسیحیت کے نظام میں نظر آتی ہے۔ یہاں میں ایک رپورٹ کا حوالہ دینا چاہتا ہوں جو ٹائمز آف انڈیا کے سنڈے ریویو (۲۲ دسمبر ۱۹۹۱) میں چھپی ہے۔ یہ رپورٹ پانچ کرسچین جرنلسٹوں کی ایک ٹیم نے تیار کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، انڈیا میں مسیحی فرقہ کی جو تعداد ہے، اس میں ۵۰ فی صد سے زیادہ نچلے طبقہ کے لوگ ہیں جن کو دلت کرسچین (Dalit Christians) کہا جاتا ہے۔ وہ اب تک چرچ کی طرف سے امتیازی سلوک کا شکار ہو رہے ہیں : Those who came over from the backward Hindu strata still find themselves bogged down in discrimination from the church. دلت کرسچین کا مردہ شخص ” اپر کاسٹ کرسچین“ کے قبرستان میں دفن نہیں ہو سکتا۔ اس کا نکاح اونچے طبقہ کے مسیحیوں میں نہیں ہو سکتا۔ چرچ میں ان کے لیے علیحدہ نشست ہوتی ہے۔ تعلیمی اداروں میں ان کے ساتھ امتیاز برتا جاتا ہے۔ چرچ کے اعلیٰ عہدے ان کو نہیں دیے جاتے۔ کیرلا میں مسیحیت دو ہزار سال سے ہے مگر اب تک یہ تفریق پائی جاتی ہے۔ برابری کا درجہ (equal status) نہ ملنے کی وجہ سے دلت کرسچین میں سخت بے چینی پیدا ہو گئی ہے۔ چنانچہ اب تک چھ ہزار مسیحی اپنے مذہب کو چھوڑ کر دوسرے مذہب میں چلے گئے ۔ مدراس کے کیتھولک آرک بشپ (Dr Casmur Guanadickman) سے اس سلسلہ میں سوال کیا گیا۔ انھوں نے اعتراف کیا کہ چرچ کے نظام میں طاقتور کاسٹ سسٹم (strong caste system) موجود ہے۔ انھوں نے کہا کہ میں مانتا ہوں کہ یہ الٹی طرف قدم ہے۔ مگر بعض اوقات عقیدہ کی طاقت حقیقت کو توڑنے میں کامیاب نہیں ہوتی : I agree, it was a retrograde step. But sometimes the power of faith cannot break reality.

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader