طلاق اسلام میں
Urdu book, p. 104
By Maulana Wahiduddin Khan
اعتراض کو زندگی کے ایک مستقل اصول کے طور پر اختیار کرلیں۔ کسی بھی سماج میں طلاق کے جو واقعات ہوتے ہیں، ان کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ۹۰ فی صد طلاق کے واقعات کا سبب ’’زبان درازی‘‘ ہے۔ کسی بات پر عورت یا مرد کو غصہ آگیا یا کوئی بات اس کو ناگوار معلوم ہوئی۔ اس کے بعد اس کی زبان سے سخت الفاظ نکل گئے۔ دوسرا فریق اس کو نظر انداز نہ کر سکا، اس نے بھی جواب میں سخت جملہ کہہ دیا۔ اب تلخ تکرار کی نوبت آگئی۔ اس تلخی کے زیر اثر مرد نے کہہ دیا کہ تم کو طلاق۔ یا عورت نے کہہ دیا کہ میں تمہارے ساتھ نہیں رہ سکتی۔ طلاق یا علیحدگی کا سبب زیادہ تر اسی قسم کے واقعات ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن میں مومن مرد اور مومن عورت کی صفات بتاتے ہوئے ایک صفت والصابرین والصابرات (الاحزاب ۳۵) کا اضافہ بھی کیا گیا ہے۔ قرآن کی اس آیت کے مطابق، مرد کو بھی صبر کی روش اختیار کرنا ہے اور عورت کو بھی صبر کے طریقہ پر قائم رہنا ہے۔ دونوں کو ایک دوسرے کی ناخوش گوار باتوں کو برداشت کرنا ہے۔ اگر وہ صبر و برداشت کی روش اختیار نہ کریں تو ان کا باہمی رشتہ ٹوٹ جائے گا۔ اور باہمی رشتہ ٹوٹنے کے بعد دونوں کو اس سے زیادہ بڑی بات برداشت کرنی پڑے گی جو رشتہ کو باقی رکھنے کی صورت میں انھیں برداشت کرنے کی ضرورت تھی۔ زوجین کو صبر و برداشت کی عام تلقین کے علاوہ اس سلسلہ میں بعض خصوصی ہدایاتیں بھی احادیث میں دی گئی ہیں جو نکاح کے بندھن میں پائیداری کے لیے ضروری ہیں۔ ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : لا یفرک مؤمن مؤمنةً ان کوئی مومن مرد کسی مومن عورت سے بغض نہ كره منها خلقاً رضي منها آخر۔ کرے ۔ اگر اس کی کوئی عادت اس کو بری لگے صحيح مسلم ، كتاب الرضاع ، باب الوصية بالنساء) تو اس میں دوسری عادت ہوگی جو اس کو خوش کردے۔ یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ ہر آدمی کے اندر کچھ اچھی باتیں ہوتی ہیں اور اسی کے ساتھ کچھ ایسی باتیں ہوتی ہیں جن کو اس کی کم زوری کہا جاسکتا ہے۔ یہی معاملہ شوہر اور بیوی کا بھی ہے۔ ایسی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader