Urdu book · مضامین اسلام

طلاق اسلام میں

Urdu book, p. 105

By Maulana Wahiduddin Khan

حالت میں دونوں کے درمیان نباہ کا فطری اصول یہ ہے کہ دونوں ایک دوسرے کی شخصیت کے اچھے پہلو کو یاد رکھیں ، اور دونوں ایک دوسرے کے کمزور پہلو کو نظر انداز کرتے رہیں ۔ اگر عورت اور مرد اس معاملہ میں باشعور ہو جائیں اور اس کو ایک اصول کے طور پر اپنی زندگی میں اختیار کر لیں تو یقیناً وہ ان کے لیے پائیدار ازدواجی زندگی کی ضمانت بن جائے گا ۔ ۲۔ تاہم کبھی ایسا ہوتا ہے کہ مذکورہ تدبیر کافی نہیں ہوتی ۔ شوہر اور بیوی کے درمیان ایسی شکایتیں پیدا ہو جاتی ہیں جو بظاہر اس سے زیادہ سخت ہوتی ہیں کہ ان کو نظر انداز کر دیا جائے ۔ اس قسم کی صورت پیش آنے کے بعد بھی یہ صحیح نہیں ہے کہ جہاں ایسا ہو فوراً طلاق دے کر علحدگی اختیار کر لی جائے ۔ اس کے بجائے تحمل سے کام لیتے ہوئے اس مسئلہ کو حل کرنے کی کوشش کرنا چاہیے ۔ اس سلسلہ میں ہم کو حسب ذیل آیت میں رہ نمائی دی گئی ہے : والتی تخافون نشوزهن فعظوهن اور جن عورتوں سے تم کو نافرمانی کا اندیشہ ہو واهجروهن فی المضاجع ان کو سمجھاؤ اور ان کو ان کے بستروں میں واضربوهن فإن اطعنکم فلا تبغوا تنہا چھوڑ دو اور ان کو مارو۔ پس اگر وہ تمہاری علیهن سبیلا (النساء ۳۴) اطاعت کریں تو ان کے خلاف الزام کی راہ تلاش نہ کرو۔ کسی مرد کو اگر اپنی بیوی سے شکایت پیدا ہو تو اس کے لیے پہلا کام طلاق دینا نہیں ہے ، بلکہ عورت کو نصیحت کرنا ہے۔ یعنی نرمی ، سنجیدگی اور خیر خواہی کے ساتھ اس کو سمجھایا جائے ۔ نفرت کے جواب میں نفرت نہ کی جائے بلکہ نفرت کے جواب میں محبت کا طریقہ اختیار کیا جائے ۔ اگر نصیحت بے اثرہ رہ جائے تو اس کے بعد شوہر کو اپنی بیوی کے ساتھ ترک کلام یا ترک صحبت کا تجربہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے ۔ اس میں بھی انتقام کا جذبہ ہرگز شامل نہیں ہونا چاہیے ۔ اس کو مکمل طور پر اصلاح اور تربیت کے ذہن کے تحت انجام دینا چاہیے ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page