جنگ اور امن اسلامی نقطۂ نظر سے
Urdu book, p. 121
By Maulana Wahiduddin Khan
آپ کے خلاف مسلسل طور پر بدترین قسم کی اشتعال انگیزی اور جارحیت کی گئی۔ مگر اس پوری مدت میں آپ نے ایک بار بھی اپنے مخالفین کے اوپر جارحانہ حملہ نہیں کیا۔ آپ نے اپنی پوری زندگی میں براہِ راست طور پر صرف تین بار جنگ کی ہے، اور یہ تینوں جنگیں یقینی طور پر مدافعانہ تھیں ۔ بدر (۲ھ) احد (۳ھ) اور حنین (۸ھ) صرف یہی تین جنگیں ہیں جن میں آپ نے براہِ راست شرکت فرمائی۔ مگر یہ تینوں جنگیں وہ تھیں جن میں خود آپ کے مخالفین آپ کے اوپر حملہ آور ہوئے تھے۔ چوں کہ ان تینوں مواقع پر مدافعت کے سوا اور کوئی صورت نہ تھی اس لئے آپ نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ان کا مقابلہ کیا۔ اسلام میں امن ہے مگر جنگ نہیں، اسلام میں مدافعت ہے مگر جارحیت نہیں۔ اسلام میں رواداری ہے مگر تشدد نہیں۔ اسلام انسان کو دار السلام (سلامتی کے گھر) کی طرف لے جانا چاہتا ہے، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی: وَاللہ یدعوا الی دار السلام (یونس ۲۵) فطرت کے مطابق ماسکو سے نکلنے والے انگریزی ماہ نامہ اسپتنک (Sputnik) کے شمارہ نومبر ۱۹۸۶ میں ایک مضمون چھپا ہے۔ اس میں ایک چھوٹے سے واقعہ کا ذکر ہے جو بہت سبق آموز ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ سوویت یونین کے سابق پریزیڈنٹ یوری اینڈروپوف (Yuri Andropove) ۱۹۸۳ میں امریکہ گئے۔ جب وہ وہاں ایئر پورٹ پر اترے تو ان کا استقبال کرنے والوں میں 11 سال کی ایک امریکی لڑکی بھی تھی۔ اس کا نام سمنتها اسمتھ (Samantha Smith) تھا۔ وہ اپنے والدین کے ساتھ ایر پورٹ پر پہنچی تھی۔ وہ روسی صدر سے ملی اور اپنے معصومانہ انداز میں ان سے کہا کہ آپ جنگ چاہتے ہیں یا امن ! Are you for war or peace? روسی صدر پر چھوٹی بچی کے اس سادہ جملہ کا بہت اثر ہوا۔ واپس لوٹنے کے بعد بھی وہ اس کو بھلا نہ سکے۔ جلد ہی بعد سمنتها اسمتھ کو روسی صدر کا ایک خط ملا۔ جس میں اس کو حکومت روس کے مہمان کی حیثیت سے سوویت روس کا سفر کرنے کی دعوت دی گئی تھی۔ اس کے مطابق جون ۱۹۸۳ میں سمنتها اسمتھ نے سوویت روس کا سفر کیا۔ سوویت روس کے دو ہفتہ دورہ کے بعد سمنتها اسمتھ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader