Urdu book · مضامین اسلام

جنگ اور امن اسلامی نقطۂ نظر سے

Urdu book, p. 122

By Maulana Wahiduddin Khan

نے اپنا تاثر بیان کرتے ہوئے کہا کہ اب میں مطمئن ہوں کہ روسی جنگ نہیں چاہتے : Now I'm sure the Russians don't want war یہ چھوٹا سا واقعہ اپنے اندر ایک زبردست سبق رکھتا ہے ۔ وہ بتاتا ہے انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے امن چاہتا ہے ۔ ۱۰ سال کی ایک بچی جو ابھی اپنی ابتدائی فطرت پر تھی۔ جو ابھی مصنوعی تمدن کے اثرات سے آزاد تھی ، اس کا مذکورہ سوال در حقیقت فطرت کا سوال تھا۔ اس کی فطرت ایک ایسی دنیا سے مطابقت نہیں کر پا رہی تھی جہاں جنگ کے نعرے ہوں جہاں گولی کی منطق سے معاملات کا فیصلہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہو۔ جہاں انسان اپنے جان و مال کو محفوظ نہ پاتا ہو۔ اسی نفسیات کے تحت اس نے روسی صدر سے مذکورہ سوال کیا۔ اسلام در حقیقت انسانی فطرت کی اسی پکار کا جواب ہے ۔ جس خدا نے انسان کے اندر امن پسند فطرت بنائی ہے ، اسی خدا نے دین اسلام بھی اتارا ہے جو سرا سر امن و سلامتی کا مذہب ہے۔ اسی حقیقت کو قرآن میں ان لفظوں میں بتایا گیا ہے کہ اللہ امن و سلامتی کے گھر کی طرف بلاتا ہے۔ خدا یہ چاہتا ہے کہ انسان دنیا میں امن و سلامتی کے ساتھ زندگی گزارے ، تاکہ آخرت میں اس کو ابدی امن و سلامتی کے باغوں میں بسایا جائے۔ آخرت کی پر امن دنیا انھیں لوگوں کے لئے ہے جنھوں نے موجودہ دنیا میں پر امن رہنے کا ثبوت دیا ہو۔ کسی مومن کے لئے یہ سب سے بڑا محرک ہے جو اس کو مجبور کرتا ہے کہ وہ موجودہ دنیا میں لوگوں کے ساتھ پر امن بن کر رہے۔ وہ دوسروں کے لئے مسئلہ پیدا کئے بغیر اپنا مسئلہ حل کرے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page