Urdu book · مضامین اسلام

کیا تمام مذاہب ایک ہیں

Urdu book, p. 147

By Maulana Wahiduddin Khan

کیا تمام مذاہب ایک ہیں ایک مسافر دہلی کے ریلوے اسٹیشن میں داخل ہو، اور "پوچھ تاچھ" کی کھڑکی پر یہ دریافت کرے کہ میں بمبئی جانا چاہتا ہوں۔ بتائیے کہ مجھے کس ٹرین سے جانا چاہئے۔ اس کے جواب میں اگر متعلقہ شخص یہ کہے کہ تمہارے سامنے ایک درجن پلیٹ فارم پر جو ٹرینیں آتی جاتی نظر آرہی ہیں ان میں سے جس ٹرین پر بھی تم بیٹھ جاؤ گے وہ تم کو بمبئی پہنچادے گی، تو اگلے لمحہ وہ مسافر شاید کمپلینٹ بک کا مطالبہ کرے گا تاکہ محکمہ ریلوے۔ کو اس شخص کے پاگل ہونے کی اطلاع دے۔ مگر یہی نامعقول بات جب مذہب کے بارے میں کہی جاتی ہے تو اس پر تحسین و آفریں کے نعرے بلند کئے جاتے ہیں۔ اور بڑے بڑے ناشرین ان خیالات کو چھاپ کر ساری دنیا میں پھیلاتے ہیں۔ دنیا کے راستوں کا ہر مسافر جانتا ہے کہ دہلی سے بمبئی جانے والی ٹرین کوئی مخصوص ٹرین ہی ہو سکتی ہے۔ ہر وہ چلتی ہوئی سواری جس کا نام ٹرین ہو وہ آدمی کو بمبئی نہیں پہنچادے گی۔ مگر حق کا سفر اس سے مستثنیٰ ہے۔ آدمی جس بھیڑ کے ساتھ بھی چل پڑے وہ لازماً حق کی منزل تک پہنچ جائے گا۔ وحدتِ ادیان کے مبلغین جو لوگ اس قسم کا نظریہ پیش کرتے ہیں ان کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ اس میں ہر فرقہ کے لوگ شامل ہیں۔ ان میں سے چند کے اقتباسات ملاحظہ ہوں۔ مہاتما گاندھی فرماتے ہیں: " میرا ہندو رجحان مجھے بتاتا ہے کہ تمام مذاہب کم یا زیادہ صداقت پر مبنی ہیں۔ مختلف مذاہب دراصل مختلف راستے ہیں جو ایک ہی مرکزی نقطہ کی طرف جارہے ہیں۔" My Religion, p.19 سی راج گوپال آچاریہ کے نزدیک یہ ایک حقیقت (Truth) ہے کہ تمام بڑے مذاہب ایک ہیں اور ان کے نام یا ان کے عبادتی طریقوں کا فرق کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔“ Essential Unity of All Religions, p. XCI ڈاکٹر رادھا کرشن تحریر فرماتے ہیں کہ ہندوازم کے نزدیک "آخری حقیقت (Supreme reality) کو جاننے اور اس کو حاصل کرنے کے طریقے مختلف ہو سکتے ہیں جب کہ دوسرے نظریات" یہ خیال رکھتے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page