عقلی استدلال
Urdu book, p. 16
By Maulana Wahiduddin Khan
برٹرینڈ رسل نے اگرچہ خود اس دلیل کو ماننے سے انکار کیا ہے۔ تاہم وہ مانتا ہے کہ اپنی نوعیت (nature) کے اعتبار سے یہ دلیل ایک خالص سائنسی دلیل ہے۔ Bertrand Russell, Why I am not a Christian, p. 9 حقیقت یہ ہے کہ اصولی اعتبار سے، قرآن کے استدلال اور سائنس کے استدلال میں کوئی فرق نہیں۔ تمام سائنسی نظریات میں معلوم سے نامعلوم پر دلیل قائم کی جاتی ہے۔ اسی طرح قرآن میں بھی معلوم سے نامعلوم یا شہود سے غیب پر دلیل قائم کی گئی ہے۔ قرآن کا طریق استدلال بھی اتنا ہی سائنٹفک ہے جتنا علوم مادی کا استدلال۔ اسلامی فلسفہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے خالص سائنٹفک فلسفہ ہے۔ جو لوگ سائنٹفک فلسفہ کو مانتے ہوں، ان کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ وہ اسلامی فلسفہ کی معقولیت (validity) کو پوری طرح تسلیم کر لیں۔ خالص علمی اعتبار سے، اس موقف کے سوا کوئی اور موقف انسان کے لیے درست نہیں۔ قرآنی فلسفہ اور سائنسی فلسفہ میں اصل فرق مقدمات کی ترتیب کا ہے نہ کہ ثانوی عقلیت اور ابتدائی عقلیت کا۔ موجودہ دنیا میں انسان کے لیے عملاً ایک ہی طریق استدلال ممکن ہے، اور قرآن اور سائنس دونوں کا طریق استدلال بنیادی طور پر یہی ہے۔ نیاز فتح پوری (۱۹۶۶-۱۸۸۴ء) کا ماہنامہ نگار بہت مشہور ہے۔ انھوں نے نگار (لکھنو) کے شمارہ جون ۱۹۳۳ میں ایک بار لکھا تھا : " عہد حاضر میں علوم جدیدہ اور اکتشافات حاضرہ نے عمل و خیال کی بالکل نئی طرح ڈال کر حریت فکر و ضمیر کی دولت سے دماغوں کو مالا مال کر دیا ہے۔ پہلے اگر خدا کی وحدانیت سے بحث کی جاتی تھی تو اب سرے سے خدا کا وجود ہی محل نظر بتایا جاتا ہے۔ اگر پہلے رسول کی ہدایت اس کے معجزوں سے ثابت کی جاسکتی تھی تو اب علوم مقناطیسیہ انھیں معجزوں کی دلیل پر ہزاروں رسول و نبی پیدا کرنے کے لیے آمادہ ہیں۔ پہلے ایک واعظ آسمان کی طرف دیکھ کر عرش و کرسی والے خدا کو پکار سکتا تھا۔ لیکن آج جب کہ آسمان ہی کوئی چیز نہ رہا اس کا ایسا کرنا کسی طرح مفید یقین نہیں ہو سکتا۔ الغرض اب زمانہ يؤمنون بالغیب کا نہیں رہا۔ بلکہ اب زمانہ يؤمنون بالتجربة والشھود کا ہے۔"

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader