عقلی استدلال
Urdu book, p. 17
By Maulana Wahiduddin Khan
موجودہ صدی کے ابتدائی دور میں عام طور پر آزاد خیال لوگوں کا یہی ذہن تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ غیبی حقیقتوں پر ایمان زمانہ جاہلیت یا قبل از سائنس زمانہ کا ایک مظہر تھا۔ اب سائنس نے علم کا جو دروازہ کھولا ہے اس کے بعد انسان تجربہ اور مشاہدہ کے دور میں داخل ہو گیا ہے ۔ اب ہمیں انہیں چیزوں کو ماننا ہے جو براہ راست ہمارے مشاہدہ میں آئیں۔ جو چیز مشاہدہ میں نہ آئے وہ بے حقیقت مفروضہ ہے۔ اس لیے اس کو ماننے کا سوال بھی پیدا نہیں ہوتا۔ مگر جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا، یہ ایک ایسا نظریہ تھا جو جلدی میں قائم کر لیا گیا تھا۔ نیوٹن اور اس کے قریبی زمانہ کے سائنس دانوں کی تحقیقات کے فوری نتائج نے انسان کو اس غلط فہمی میں مبتلا کر دیا کہ کائنات قابل مشاہدہ ہے۔ اور جب کائنات قابل مشاہدہ ہے تو وہ تمام تصورات اپنے آپ غیر حقیقی قرار پاتے ہیں جو مشاہدہ اور تجربہ کی گرفت میں نہ آتے ہوں۔ مگر یہ نظریہ اس وقت تک تھا جب کہ سائنس دانوں کی تحقیق کا ئنات کبیر (macrocosms) کی سطح پر چل رہی تھی۔ جب ان کی تحقیق مزید آگے بڑھ کر کائنات صغیر (microcosm) کے دائرہ میں داخل ہو گئی تو علماء سائنس کو معلوم ہوا کہ یہاں سارا معاملہ غیر مشاہداتی ہے۔ آسمان میں گردش کرتے ہوئے بڑے شمسی نظام کو وہ اپنی دوربینوں سے دیکھ سکتے تھے۔ مگر ایٹم کے اندر گردش کرتا ہوا چھوٹا شمسی نظام ان کی انتہائی طاقت ور دوربینوں کی پہنچ سے بھی باہر تھا۔ اس علمی ترقی کا نتیجہ یہ ہوا کہ سارا فکری ڈھانچہ ٹوٹ گیا۔ دوسری عالمی جنگ سے پہلے اگر یومنون بالتجربة والشہود کا دور چھایا ہوا نظر آتا تھا، تو دوسری عالمی جنگ کے بعد دوبارہ یومنون بالغیب کا دور تاریخ میں لوٹ آیا۔ نیاز فتح پوری کے مذکورہ بالا مضمون چھپنے کے تقریبا ۳۵ سال بعد میری ملاقات ایک صاحب سے ہوئی۔ وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ فلسفی تھے۔ اسی کے ساتھ وہ پوری طرح ملحد ہو چکے تھے۔ وہ خدا جیسی کسی ہستی کے وجود کو تسلیم نہیں کرتے تھے۔ عقیدہ خدا کے مسئلہ پر گفتگو کے دوران انھوں نے مجھ سے ایک سوال کیا۔ یہ ایک مختصر سوال تھا۔ میں نے اس کا جو جواب دیا وہ بھی بالکل مختصر تھا۔ وہ سوال یہ تھا : خدا کو ثابت کرنے کے لیے آپ کے پاس کری ایٹر بین کیا ہے ۔ وہی کری ایٹر بین جو آپ کے پاس کوئی چیز ثابت کرنے کے لیے ہو۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader