فکری قیادت
Urdu book, p. 170
By Maulana Wahiduddin Khan
فکری قیادت ہم بحران کے ایک دور سے گزر رہے ہیں۔ اقتصادی بحران، سیاسی بحران ، عسکری بحران - مگر ان سب سے زیادہ بڑا بحران وہ ہے جس کو فکری بحران کہا جاسکتا ہے۔ آج کا انسان کسی ایسی فکری بنیاد سے محروم ہے جس پر وہ کھڑا ہو سکے۔ جس پر وہ اپنی زندگی کی بنیاد رکھے۔ قدیم دور تو ہم پرستی کا دور تھا۔ اس زمانہ میں انسان کے لئے یہ ممکن تھا کہ وہ مفروضات اور توہمات پر جی سکے۔ آج کا زمانہ تعقل (reason) کا زمانہ ہے۔ آج انسان تعقل پر جینا چاہتا ہے۔ مگر جب انسان ایسا کرنا چاہتا ہے تو اس کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کے پاس جینے کے لئے کوئی عقلی بنیاد موجود ہی نہیں۔ دو چیزیں ہیں جو انسان کے لئے فکری بنیاد بن سکتی ہیں ۔ مذہب یا سائنس۔ یعنی الہامی علم یا سائنٹفک علم۔ مگر جدید انسان نے یہ دونوں ہی بنیادیں کھودی ہیں۔ قدیم ترین زمانہ سے انسان مذہب کو اپنے لئے فکری بنیاد بنائے ہوئے تھا۔ مگر موجودہ زمانہ میں جب مذہب کو عقل کی روشنی میں دیکھا گیا تو معلوم ہوا کہ یہ مذاہب عقل کے معیار پر پورے نہیں اترتے ۔ مثال کے طور پر بائبل کو لیجئے ۔ بائبل میں ایک طرف توحید کی آیت ہے : Hear, O Israel: The Lord our God is One Lord. (Deuteronomy 6:4) اسی کے ساتھ بائبل کا عقیدہ رکھنے والے لوگ اسی بائبل سے تثلیث کو بھی نکالتے ہیں ۔ اور اس کا ماخذ ان کے نزدیک نئے عہد نامہ کی یہ آیت ہے : Go ye therefore, and teach all nations, baptizing them in the name of the father, and of the Son, and of the Holy Ghost. یہ انسانی عقل کے لئے ایک ناقابل فہم بات ہے۔ کیونکہ خدا اگر ایک ہے تو وہ تین نہیں ہو سکتا۔ اور اگر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader