فکری قیادت
Urdu book, p. 172
By Maulana Wahiduddin Khan
اسلام تحریف سے پاک ہے وہ اپنی اصل الہامی صورت میں آج بھی موجود ہے۔ اس بنا پر وہی اس پوزیشن میں ہے کہ جدید انسان کو فکری رہنمائی دے سکے۔ اسلام انسان کو ایک طرف وہ سچا مذہب عطا کرتا ہے جو اس کی فطرت کے عین مطابق ہے اور اس کو خالص توحید کا وہ عقیدہ فراہم کرتا ہے جس سے وہ کائنات کی توجیہہ کر سکے۔ آج انسانیت کی سب سے بڑی خدمت یہ ہے کہ اس کو اسلام سے متعارف کیا جائے جو واحد نظام ہے جو انسانیت کو فکری بحران سے نکال سکتا ہے۔ یہاں میں دو واقعہ نقل کروں گا جو علامتی طور پر بتاتا ہے کہ کس طرح اسلام انسانیت کو موجودہ فکری بحران سے نکال کر اس حالت تک پہنچانے والا ہے جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے : سن لو ، اللہ کی یاد ہی سے دلوں کو اطمینان ملتا ہے (۱۳ : ۲۸) ا ڈاکٹر منشی کائنت چٹوپادھیائے انڈیا کے ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ ہندو تھے۔ انھوں نے ۱۹۰۴ میں اسلام قبول کر لیا تھا۔ انھوں نے اپنے ذہنی سفر کا حال ایک کتاب میں بیان کیا ہے جس کا نام ہے : Why have I accepted Islam? ڈاکٹر چٹو پادھیائے لکھتے ہیں کہ جب میں بڑا ہوا تو مجھے اپنے آبائی مذہب سے بے اطمینانی ہو گئی۔ اس کے بعد میں نے مذاہب کا مطالعہ شروع کیا۔ مگر ہر مذہب مجھے غیر تاریکی نظر آیا۔ ان کی کتابیں اور ان کی شخصیات کوئی بھی تاریخ کے معیار پر پوری اترتی نظر نہیں آئیں۔ آخر میں انھوں نے اسلام کا مطالعہ کیا تو اسلام اور پیغمبر اسلام کی ایک ایک چیز انھیں مکمل طور پر تاریخ کی روشنی میں نظر آئی۔ انھوں نے اسلام قبول کر لیا۔ اس کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے اپنی کتاب میں یہ جملہ لکھا ہے کہ اف، اس پانے میں کیسی راحت ہے کہ آدمی آخر کار ایک سچے تاریخی پیغمبر کو پالے جس پر وہ یقین کر سکے : Oh! what a relief to find, after all, a truly historical Prophet to believe in. ۲- فرانس کے ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص ڈاکٹر گارودی کو حقیقت کی تلاش ہوئی انھوں نے مختلف فلسفہ اور مذاہب کا مطالعہ کیا یہاں تک کہ وہ اسلام پر مطمئن ہوئے اور ۱۹۸۳ میں انھوں نے اسلام قبول کر لیا۔ ان سے پوچھا گیا کہ آپ نے اسلام کیوں قبول کیا تو انھوں نے کہا میں نے اسلام اس لئے قبول کیا تاکہ میں اپنی زندگی کو با معنی بنا سکوں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader