Urdu book · مضامین اسلام

فکری قیادت

Urdu book, p. 173

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ دونوں واقع علامتی طور پر بتاتا ہے کہ آج کے انسانوں کو سب سے زیادہ کس چیز کی ضرورت ہے۔ آج کے انسان کو سب سے زیادہ اس چیز کی ضرورت ہے جس کو ڈاکٹر ہر یڈلس نے نیور ریلیجن کہا تھا۔ اور جس کا متعین نام اسلام ہے۔ یہ سب سے بڑی چیز ہے جس کو موجودہ سلمان عالم انسانیت کو دے سکتے ہیں۔ یہاں میں یہ اضافہ کرنا چاہتا ہوں کہ دنیا کو اسلام کا پیغام دینا سادہ طور پر محض اعلان کا معاملہ نہیں ہے یہ عظیم صبر کا معاملہ ہے۔ مسلمانوں کو موجودہ زمانہ کی مدعو اقوام سے طرح طرح کی ایڈ آئیں پہنچ رہی ہیں۔ اس کے ردعمل میں ایسا ہوا ہے کہ مسلمان اپنی مدعو اقوام کے خلاف غصہ اور شکایت کی نفسیات سے بھر گئے ہیں۔ اس طرح کی نفسیات کے ساتھ دعوت کا کام نہیں کیا جاسکتا۔ دعوت کی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کے لئے مسلمانوں کو رد عمل کی نفسیات سے اوپر اٹھنا ہوگا۔ اٹھیں مدعو اقوام کی ڈالی ہوئی ایڈاؤں کو یک طرفہ طور پر برداشت کرنا ہوگا۔ اس قربانی کے بعد ہی وہ موجودہ دنیا میں اسلام کے داعی بن سکتے ہیں۔ یہی وہ حقیقت ہے جو قرآن میں پیغمبروں کی زبان سے ان لفظوں میں بتائی گئی ہے کہ ہم ضرور تمہاری ایڈاؤں پر صبر کریں گے (۱۲: ۱۴) آخر میں میں کہوں گا کہ جدید انسان کا فکری بحران میں مبتلا ہونا اور مسلمانوں کے پاس اجارہ داری کی حد تک اس فکری بحران کا حل موجود ہونا مسلمانوں کو یہ موقع دے رہا ہے کہ وہ آج کی دنیا کے فکری قائد بن سکیں ۔ مگر یہ عالمی قیادت انھیں صرف صبر کی زمین پر ہی مل سکتی ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کا قرآن میں ان الفاظ میں اعلان کیا گیا : ہم ان کو آفاق میں اور خود ان کے اندر اپنی نشانیاں دکھائیں گے ، یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہو جائے گا کہ یہ قرآن حق ہے (۵۳ / ۴۱)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page