Urdu book · مضامین اسلام

مضحکہ خیز

Urdu book, p. 20

By Maulana Wahiduddin Khan

کمرہ کے پچھلے حصہ سے اٹھی اور کہا: تم نے جو کچھ ہمیں بتایا وہ بالکل لغو ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا پلیٹ کی مانند چپٹی ہے جو ایک بہت بڑے کچھوے کی پیٹھ پر ٹکی ہوئی ہے۔ سائنس داں جواب دینے سے پہلے فاتحانہ انداز سے مسکرایا اور پھر قانون سے پوچھا کہ یہ کچھو کس چیز کے اوپر کھڑا ہے۔ بوڑھی عورت بولی: اے نوجوان، تم بہت چالاک ہو، مگر یہ کچھوے پر کچھو ہے اور اسی طرح یہ سلسلہ نیچے تک چلا گیا ہے۔ بہت سے لوگ ہماری دنیا کی اس تصویر کو مضحکہ خیز سمجھیں گے کہ کچھوؤں کا ایک لامتناہی کھمبا ہے جس کے اوپر یہ زمین ٹھہری ہوئی ہے۔ مگر کیوں ہم ایسا سمجھتے ہیں کہ ہم جو کچھ جانتے ہیں وہ اس سے بہتر ہے۔ ہم کائنات کے بارہ میں کیا جانتے ہیں اور ہم کس طرح اس کو جانتے ہیں۔ کائنات کہاں سے آئی اور وہ کہاں جارہی ہے۔ کیا کائنات کا ایک آغاز ہے اور اگر ایسا ہے تو اس سے پہلے جو گزرا وہ کیا تھا۔ وقت کی نوعیت کیا ہے۔ کیا وہ کبھی ختم ہوگا ۔ فرکس کے حالیہ انکشافات نے جزئی طور پر نئی حیرت ناک ٹیکنالوجی کو ممکن بنا دیا ہے۔ اس سے کچھ قدیم سوالوں کے جواب معلوم کرنا ممکن ہو گیا ہے۔ کچھ دن تک یہ جوابات ہم کو اسی طرح واضح دکھائی دے سکتے ہیں جیسے کہ سورج کے گرد زمین کا گھومنا۔ یا شاید وہ آئندہ اتنے ہی مضحکہ خیز نظر آنے لگیں جیسا کہ کچھوؤں کا کھمبا۔ صرف وقت، خواہ وہ جو بھی ہو، اس کے بارے میں بتا سکے گا۔ صفحہ ۱-۲ جدید نظریات کے مضحکہ خیز ثابت ہونے کے لئے ہمیں مستقبل کا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں۔ اہل دانش کے لئے ان کا مضحکہ خیز ہونا آج ہی معلوم اور ثابت شدہ ہے۔ مثلاً جدید سائنسی فکر کے مطابق دنیا کے واقعات اسباب وعلل کی ایک زنجیر میں بندھے ہوئے ہیں۔ ہر واقعہ کے پیچھے ایک سبب ہے، اور پھر اس سبب کے پیچھے ایک اور سبب۔ اس طرح یہ سلسلہ برابر چلا جا رہا ہے۔ اس قسم کا لامتناہی سلسلہ اسباب بلا شبہہ اتنا ہی مضحکہ خیز ہے جتنا کہ کچھوؤں کی لامتناہی قطار۔ زندگی اور کائنات کی حقیقت کے بارہ میں آج کا انسان عجیب عجیب غلط فہمیوں میں پڑا ہوا ہے۔ کوئی سمجھتا ہے کہ یہ سب کچھ ایک بے مقصد ہنگامہ ہے۔ وہ اپنے آپ شروع ہوا اور اپنے آپ ختم ہو جائے گا۔ کسی کا خیال ہے کہ بہت سی روحیں یا دیوتا ہیں جو اس دنیا کے مالک ہیں۔ کوئی اسباب وعلل یا قانون اتفاق (law of chance) کے تحت اس کی تشریح کر رہا ہے۔ وغیرہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page