Urdu book · مضامین اسلام

اسلامی تعلیمات کا سائنسی ثبوت

Urdu book, p. 23

By Maulana Wahiduddin Khan

اسلامی تعلیمات کا سائنسی ثبوت اسلام کی تعلیمات کا سائنسی ثبوت دینا ، باعتبار حقیقت ، ایسا ہی ہے جیسے کسی کے سامنے پیاس کا سائنسی ثبوت دینا یا محبت مادری کو عقلی طور پر ثابت کرنا، حقیقت یہ ہے کہ اسلام دین فطرت ہے۔ اسلام کی تعلیمات فطرت انسانی کے عین مطابق ہیں ، اور جو چیز فطرت کی آواز ہو وہ اپنے آپ انسان کی سمجھ میں آ جاتی ہے ، اس کے لیے عقلی اور منطقی استدلال کی ضرورت نہیں۔ اسلام کا اصل مقصد یہ ہے کہ وہ آدمی کی فطرت میں چھپے ہوئے احساسات کو جگائے ، وہ اس کے لاشعور کو شعور میں لانے کی کوشش کرے۔ جب اس طرح آدمی کی فطرت جاگ اٹھتی ہے تو آدمی اور اسلام کے درمیان وہی رشتہ قائم ہو جاتا ہے۔ جو پیاس سے آدمی اور پانی کے درمیان ہے۔ اس کے بعد آدمی خود شعور فطرت کے زور پر خدا کے دین کو مان لیتا ہے ، وہ اسلام کو اپنی اندرونی آواز کا شتی سمجھ کر قبول کر لیتا ہے۔ تاہم جس آدمی کی فطرت ابھی بیدار نہ ہوئی ہو اس کی فطرت کو بیدار کرنے کے لیے عقلی استدلال کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ عقلی استدلال کا ایک اور فائدہ ہے۔ وہ اہلی ایمان کے لیے اضافہ ایمان کا سبب ہے۔ اس سے مومن کو وہ چیز حاصل ہوتی ہے جس کو قرآن میں اطمینان قلب کہا گیا ہے۔ خدا کا وجود اسلام کا اساسی عقیدہ خدا کے وجود کو ماننا ہے۔ موجودہ زمانہ میں جب سائنسی در یافتیں ہوئیں تو قدیم زمانہ کے اکثر عقائد محض تو ہمات ثابت ہونے لگے۔ اس کو دیکھ کر کچھ لوگوں نے خدا کو بھی اسی فہرست میں شامل کر دیا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ خدا کا عقیدہ توہماتی دور کی پیداوار تھا، اب جدید دور میں اس کا کوئی وجود نہیں۔ مگر یہ اعلان بلا دلیل تھا ، حقیقت یہ ہے کہ سائنسی حقائق خدا کے وجود کی مزید تصدیق کر رہے تھے۔ وہ خدا کے عقیدہ کے لیے خالص عقلی بنیاد فراہم کر رہے تھے۔ پہلے زمانہ کی بات ہے ۔ ایک بار کچھ لوگوں کے درمیان خدا کے وجود کے بارہ میں بحث چھڑی ۔ ایک گروہ کا کہنا تھا کہ خدا ہے ۔ دوسرے گروہ کا کہنا تھا کہ خدا نہیں ہے ۔ دونوں اپنا اپنا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page