Urdu book · مضامین اسلام

اسلامی تعلیمات کا سائنسی ثبوت

Urdu book, p. 24

By Maulana Wahiduddin Khan

دعویٰ پیش کر رہے تھے۔ مگر کسی کے حق میں فیصلہ نہیں ہو رہا تھا۔ آخر کار ایک تجویز کے مطابق یہ طے ہوا کہ فلاں بزرگ کو بلایا جائے ۔ اور ان کے سامنے مسئلہ پیش کیا جائے ۔ ممکن ہے کہ وہ کوئی ایسی بات کہیں جس سے مسئلہ طے ہو جائے ۔ وہ بزرگ ایک مسجد کے حجرہ میں رہتے تھے اور بہت کم باہر نکلتے تھے ، ان کو پیغام بھیجا گیا ۔ اور درخواست کی گئی کہ آکر بحث کا فیصلہ کریں۔ وہ حجرہ سے نکل کر آئے اور دونوں فریقوں کی باتیں سنیں ۔ آخر میں انھوں نے بسم اللہ الرحمن الرحیم کہا اور قرآن کی یہ آیت پڑھی : اَفِي اللّٰہِ شکّ فاطر السمٰوات والارض (ابراہیم (۱۰) کیا تم کو اللہ کے بارہ میں شک ہے جو آسمانوں اور زمین کا فاطر ہے۔ بزرگ نے یہ آیت پڑھی اور پھر واپس چلے گئے ۔ بزرگ نے اس وقت یہ آیت اپنے اعتقادی یقین کے تحت پڑھی تھی۔ مگر آج ہم جانتے ہیں کہ یہ آیت خدا کے وجود کا ایک سائنسی ثبوت ہے۔ بگ بینگ کا جدید نظریہ دراصل اسی آیت کی سائنسی تفسیر ہے۔ قرآن میں اس طرح کی آیت کوئی ایک نہیں ہے ۔ بلکہ قرآن میں اس طرح کی بہت سی آیتیں ہیں جو دورِ جدید میں اپنی معنویت کو از سر نو واضح کر رہی ہیں۔ یہ قرآن کا ایک انوکھا پہلو ہے۔ کیونکہ دنیا کے وسیع لٹریچر میں ، خواہ وہ مذہبی ہو یا غیر مذہبی ، کوئی بھی دوسری کتاب ایسی موجود نہیں جس کے لیے جدید دریافت شدہ حقائق اس کی تردید نہ بنیں بلکہ وہ اس کی تفسیر و تشریح بن جائیں ۔ قدیم کتابوں میں یہ امتیازی خصوصیت صرف قرآن کو حاصل ہے۔ قرآن کی یہ صفت دوسری مذہبی کتابوں کے لیے چیلنج نہیں ہے بلکہ وہ ان کے لیے مددگار ہے ۔ دوسری مقدس کتابیں مذہب کی علمی اہمیت کو نمایاں کرنے کے لیے کمزور ثابت ہو رہی تھیں ۔ یہاں قرآن ان کی مدد کر رہا ہے۔ قرآن دوسری کتابوں میں بیان کی ہوئی سچائیوں کا مصدق ہے۔ اس اعتبار سے قرآن دوسری کتابوں کا معاون ہے نہ کہ ان کا حریف ۔ دیگر اہلِ مذاہب اگر قرآن کو اپنا حریف نہ سمجھیں تو وہ خود اپنے مذہب کے لیے اس کو مددگار پائیں گے ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page