دین خداوندی کی تصدیق
Urdu book, p. 36
By Maulana Wahiduddin Khan
دین خداوندی کی تصدیق جدید فکری انقلاب اسلام کے حق میں ایک تصدیقی انقلاب ہے۔ اس انقلاب کے بعد جو تصدیقی حقیقتیں سامنے آئی ہیں وہ بے شمار ہیں۔ صرف مثال کے طور پر یہاں ہم بعض اصولی چیزوں کی طرف اشارہ کریں گے۔ ۱۔ کائنات کی اشیاء بظاہر مختلف اور متعدد دکھائی دیتی ہیں۔ قدیم زمانہ میں اس ظاہری مشاہدہ کی بنا پر ان کو الگ الگ سمجھ لیا گیا۔ اس تعدد اشیاء سے تعدد آلہ کا عقیدہ پیدا ہوا۔ گرموجودہ زمانہ میں سائنسی مطالعہ نے بتایا کہ تمام چیزیں، اپنے ظاہری اختلافات کے باوجود، ایک جوہر سے بنی ہوئی ہیں۔ قدیم عقیدہ کے مطابق ، کائنات بظاہر شرک کی تصدیق کرتی ہوئی دکھائی دیتی تھی، جدید تحقیق کے بعد کائنات توحید کی مصدق اور مؤید بن گئی۔ ۲۔ اسلام کے عقائد سب کے سب غیب سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان پر صرف بالواسطیا استنباطی دلیل ہی قائم کی جا سکتی ہے۔ مثلاً خدا کے وجود کو ثابت کرنے کے لیے یہ دلیل کہ ۔ ڈیزائن ہے تو اس کا ڈزائنر بھی لازماً ہونا چاہیے۔ یہ اسلوب استدلال فلسفیانہ ذہنوں کو اپیل نہیں کرتا تھا۔ وہ کہتے تھے کہ براہ راست دلیل لاؤ، اس کے بعد ہم تمہاری بات کو مانیں گے۔ جدید تحقیقات نے ثابت کر دیا کہ موجودہ دنیا میں صرف بالواسطہ استدلال ہی ممکن ہے۔ مذہبی معتقدات کے علاوہ خالص سائنٹفک حقیقتوں پر بھی صرف بالواسطہ دلیل ہی قائم کی جا سکتی ہے۔ اس تحقیق کے بعد دینی علم کلام عین سائنسی علم بن گیا۔ ۳۔ انسان یہ سمجھے ہوئے تھا کہ وہ موجودہ دنیا ہی میں اپنی مادی جنت بنا سکتا ہے۔ وہ مسلسل مادی چیزوں کے حصول میں لگا ہوا تھا۔ اس کا خیال تھا کہ جب وہ مادی ترقی کے آخر میں پہنچے گا تو اس کی جنت بھی اسی دنیا میں تعمیر ہو چکی ہوگی۔ موجودہ زمانہ میں یہ مادی ترقیاں اپنی آخری حد تک پہنچ گئیں۔ مگر مادی ترقیاں انسان کے لیے جنت کی تعمیر نہ کر سکیں۔ اب یہ معلوم ہوا کہ مادی ترقی جتنا بڑھتی ہے اتنا ہی وہ مسائل میں اضافہ کرتی چلی جاتی ہیں۔ وہ انسان کی امیدوں کو پورا نہیں کرتی۔ یہ واقعہ اس بات کا ایک تجرباتی قرینہ بن گیا کہ جنت کا حصول صرف اگلے دور حیات میں ممکن

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader