دین خداوندی کی تصدیق
Urdu book, p. 37
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے، موجودہ دور حیات میں جنت کا حصول ممکن نہیں۔ ۴۔ قدیم زمانہ میں مذہب کو مقدس سمجھا جاتا تھا۔ اس کو عقیدت مندی کے سوا کسی اور نظر سے دیکھنا ممکن نہ تھا۔ یہ مزاج مذہب کے تنقیدی مطالعہ کی راہ میں حائل تھا۔ یہ مذاہب تحریف کے نتیجہ میں غیر معتبر ہو چکے تھے۔ مگر تقدیسی مزاج کی وجہ سے ان کی جانچ نہیں کی جاتی تھی۔ اس بنا پر ان مذاہب کی بے اعتباریت چھپی ہوئی تھی۔ جدید مغربی انقلاب، جو اسلامی انقلاب کے اثر سے پیدا ہوا، اس نے اشیاء کے تقدس کو ختم کر دیا۔ اب ہر چیز کے بارہ میں تحقیق و تفتیش ہونے لگی۔ تحقیق و تفتیش کا یہ سلسلہ ابتدا عالم طبیعی سے شروع ہوا۔ اس کے بعد بڑھتے بڑھتے وہ مذہب تک پہنچ گیا۔ مذاہب کو تاریخی اور علمی اعتبار سے جانچا جانے لگا۔ اس جانچ کے نتیجہ میں وہ چیز سامنے آگئی جو اب تک چھپی ہوئی تھی۔ یعنی مذاہب کا غیر معتبر ہونا۔ مثال کے طور پر اس جانچ کے نتیجہ میں یہ حقیقت کھلی کہ یہ تمام مذاہب اپنی کوئی تاریخی بنیاد نہیں رکھتے۔ یہ مذاہب جن شخصیتوں کی طرف منسوب ہیں، وہ تمام شخصیتیں صرف مذہبی عقیدہ کی حیثیت رکھتی ہیں، ان کو تاریخی شخصیت کا درجہ حاصل نہیں۔ مثلاً عراق کے تاریخی ریکارڈ میں حضرت ابراہیم کا کوئی ذکر نہیں، مصر کے تاریخی ریکارڈ میں حضرت موسیٰ کا کوئی ذکر نہیں، فلسطین کے تاریخی ریکارڈ میں حضرت مسیح کا کوئی ذکر نہیں۔ اس معاملہ میں صرف ایک استثناء ہے، اور وہ پیغمبر اسلام کا ہے۔ حضرت مسیح، پیغمبر اسلام سے پہلے کے نبیوں میں سب سے آخری نبی ہیں۔ مگر ان کا ذکر بھی تاریخی ریکارڈ میں موجود نہیں۔ مسیح کے نام سے جس ہستی کو جانا جاتا ہے وہ صرف اعتقادی مسیح“ کا خالص علمی اعتبار سے کوئی وجود نہیں۔ اس سلسلہ (historical Jesus) ہیں، تاریخی مسیح میں کثرت سے کتابیں لکھی گئی ہیں۔ چنانچہ انسائیکلوپیڈیا برطانیہ کا (۱۹۸۴) کے مقالہ مذہب کا میں اقرار کیا گیا ہے کہ مسیح کی قدیم شہادتوں کے بارہ میں (Study of Religion) مطالعہ تاریخی تیقن حاصل کرنا ممکن نہیں : historical certainty about much in the ancient witnesses to Jesus is impossible (15/624). (W.C.R.L)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader