Urdu book · مضامین اسلام

اسلام نظریاتی سپیریاور

Urdu book, p. 63

By Maulana Wahiduddin Khan

موجودہ زمانہ کے مسلمان غیرمسلموں کو جہاد کا موضوع بنائے ہوئے ہیں اور مسلسل شکست کھارہے ہیں۔ یہ بلاشبہ ایک اجتہادی غلطی تھی جس میں موجودہ زمانہ کے تمام مسلم رہ نما مبتلا رہے۔ صحیح یہ ہے کہ غیرمسلم اقوام ہمارے لیے مدعو کے حکم میں ہیں۔ ہمیں ان کو دعوت کا موضوع بنانا ہے۔ مسلمان جس دن یہ فیصلہ کریں گے کہ اقوام عالم ان کے لیے مدعو ہیں اور ان کے ساتھ انھیں داعیانہ انداز میں معاملہ کرنا ہے ، اسی دن سے ان کی تاریخ بدلنا شروع ہو جائے گی ۔ تاہم قرآن کی دعوتی طاقت کو استعمال کرنا کوئی سادہ سی بات نہیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ شرط پوری کی جائے جو اس طاقت کے ظہور کے لیے ضروری ہے ۔ یہ شرط ، ایک لفظ میں صبر ہے ۔ قرآن کی دعوتی طاقت کے استعمال کے لیے مسلمانوں کو داعی بننا ہوگا اور دوسری قوموں کو مدعو کا درجہ دینا ہوگا۔ داعی اور مدعو کا رشتہ بے حد نازک رشتہ ہے۔ اس میں داعی کو یک طرفہ صبر کے ذریعہ اپنے اور مدعو کے درمیان تمام نزاعات کو ختم کرنا ہوتا ہے تاکہ وہ موافق فضا پیدا ہو جس میں دعوت کا عمل جاری ہوسکے۔ دوسری قومیں اگر زیادتی کریں تب بھی مسلمانوں کو ان سے نہیں الجھنا ہے ۔ وہ اگر اشتعال انگیزی کریں تب بھی مسلمانوں کو مشتعل نہیں ہونا ہے۔ مسلمانوں کو ہر حال میں ان کا خیر خواہ رہ کر انھیں دعوت حق کا مخاطب بنانا ہے۔ دعوت کا عمل یک طرفہ برداشت اور ایک طرفہ خیر خواہی چاہتا ہے۔ اس کے بغیر کسی قوم کے اوپر دعوت کا عمل جاری نہیں کیا جا سکتا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page