Urdu book · مضامین اسلام

اسلام نظریاتی سپیریاور

Urdu book, p. 62

By Maulana Wahiduddin Khan

وہ واحد غیر محرف مذہب ہے ۔ اس کی اس صفت نے اس کو بلا مقابلہ کامیابی (unopposed victory) حاصل کرنے کی پوزیشن عطا کر دی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ امریکہ آج کی دنیا میں فوجی سپر پاور ہے۔ اور جاپان آج کی دنیا میں اقتصادی سپر پاور ہے۔ مگر اسلام ابدی طور پر نظریاتی سپر پاور ہے۔ وہ دوسری تمام طاقتوں پر غالب آ جانے والا ہے۔ جو دین خود صاحب طاقت کو مسخر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو اس کے تسخیری امکانات کی کوئی حد نہیں۔ مگر موجودہ زمانہ کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ مسلمان اس حقیقت سے بے خبر ہو گئے ہیں کہ خدا کی محفوظ کتاب اور خدا کا بے آمیز دین جو ان کے پاس ہے وہ اپنی ذات میں ایک طاقت ہے۔ اس کے ذریعہ وہ افراد کو اور قوموں کو مسخر کر سکتے ہیں۔ عصائے موسیٰ اپنے ہاتھ میں رکھتے ہوئے وہ فرعون اور اس کے لشکر سے خوفزدہ ہو رہے ہیں۔ اکتوبر ۱۹۹۱ میں مالٹا میں ایک انٹرنیشنل مذہبی کانفرنس ہوئی۔ اس میں مختلف عالمی مذاہب کے لوگ شریک ہوئے۔ منتظمین کی دعوت کے تحت میں بھی اس میں شریک تھا۔ وہاں میری ملاقات ایک عرب عالم سے ہوئی۔ وہ افریقہ کی ایک یونیورسٹی میں استاد ہیں۔ وہ مالٹا کے حالات سے کافی واقف تھے۔ گفتگو کے دوران انھوں نے کہا کہ مالٹا میں صدی صد آبادی عیسائیوں کی ہے۔ یہاں ایک بھی مسلمان نہیں۔ چنانچہ ہمارے یہاں ایک مثل مشہور ہے کہ _ فَلَاں كَمَنْ يُؤَذِّنُ فِي مَالِطَا (فلاں شخص ایسا ہے جیسے کوئی مالٹا میں اذان دے) یعنی اذان نمازیوں کو پکارنے کے لیے دی جاتی ہے۔ جہاں نمازی نہ ہوں وہاں اذان پکارنا بے فائدہ ہے۔ اسی طرح فلاں شخص ایسا عمل کر رہا ہے جس کا اس کے ماحول میں کوئی ریسپانس ملنے والا نہیں۔ یہ ایک علامتی مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں میں کس طرح دعوت کا شعور یکسر ختم ہو گیا ہے۔ وہ مسلمانوں کو پکارنا جانتے ہیں مگر غیر مسلمانوں کو پکارنے کے کام سے وہ واقف نہیں۔ حالانکہ خود اذان میں بھی دعوت کا شعور پوری طرح موجود ہے۔ اس میں موذن کو اگر حتى على الصلاة کے الفاظ تلقین کیے گئے ہیں تو اسی کے ساتھ اس میں حتیٰ علی الفلاح کے الفاظ بھی پکارنے کے لیے موجود ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page