اثر العقیدہ فی تطبیق الشریعہ
Urdu book, p. 65
By Maulana Wahiduddin Khan
اثر العقیدہ فی تطبیق الشریعہ قانون کی تاریخ کا تقابلی مطالعہ بتاتا ہے کہ شرعی قانون جب ایک معاشرہ میں نافذ کیا گیا تو وہ پوری طرح نافذ ہوگیا۔ دور اول کے اسلامی معاشرہ سے لے کر موجودہ زمانہ کی سعودی مملکت تک کا تجربہ اس کی عملی تصدیق ہے۔ اس کے برعکس دوسرے قوانین کا یہ حال ہے کہ جب وہ جاری کیے جاتے ہیں تو انسان کوئی نہ کوئی فرار (escape) تلاش کرکے ان کو جزئی یا کلی طور پر کالعدم کر دیتا ہے۔ موجودہ زمانہ میں اس قانونی فراریت نے ایک منظم کاروبار وبار کی صورت اختیار کرلی ہے۔ ہر ترقی یافتہ ملک میں بہت بڑے پیمانہ پر وہ ادارہ قائم ہے جس کو لیگل پروفیشن کہا جاتا ہے۔ ایک امریکی ماہر نے بجاطور پر اس کو لوپ ہول انڈسٹری (loophole industry) کا نام دیا ہے۔ اس ادارہ کے تحت اعلیٰ ترین ذہن اس کام میں لگے ہوئے ہیں کہ جو قانون ان کے سامنے آئے اس کے اندر وہ کوئی ایسا خلا تلاش کرلیں جس کے ذریعہ اس کے عملی انطباق کو نا ممکن بنا دیا جائے۔ یہ فرق کیوں ہے کہ شرعی قانون کے لیے پیروی کا جذبہ پیدا ہوتا ہے، اور وضعی قانون کا معاملہ ہو تو اس سے بچنے کی راہ تلاش کی جاتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شرعی قانون کے ساتھ ایک مقدس عقیدہ موجود ہوتا ہے۔ مگر وضعی قانون (man-made law) کے ساتھ اس قسم کا کوئی عقیدہ موجود نہیں ۔ شرعی قانون کی یہ حقیقت کہ وہ خدائی قانون ہے ، اس کو ہر ایک کے لیے قابلِ قبول بنا دیتا ہے۔ جب کہ وضعی قانون کے متعلق یہ ذہن ہوتا ہے کہ وہ ہمارے ہی جیسے انسانوں کا بنایا ہوا ہے ، اس کو قبول نہ کرنے میں کسی ایسے خطرہ کا اندیشہ نہیں جس سے بچنا ممکن نہ ہو ۔ دوسرے قوانین صرف قوانین ہیں۔ مگر شریعت ، قانون کے ساتھ عقیدہ بھی ہے۔ یہ اس کی ایک امتیازی صفت ہے ۔ اس کی وجہ سے اسلامی قانون کے حق میں استثنائی طور پر ایک ایسے عنصر شامل ہو جاتا ہے۔ یہی تائیدی عنصر ہے جس نے اس بات کو ممکن بنایا ہے کہ کوئی اسلامی قانون جب دیا جائے تو عملاً وہ پوری طرح نافذ بھی ہو جائے ۔ جب کہ وضعی قوانین کا تجربہ بتاتا ہے کہ پارلیمنٹ قانون تو بنا دیتی ہے مگر بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ ایسا کوئی قانون ان لوگوں کے اوپر پوری طرح نافذ بھی ہو سکے جن کے لیے وہ بنایا گیا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader