اثر العقیدہ فی تطبیق الشریعہ
Urdu book, p. 66
By Maulana Wahiduddin Khan
سیکولر علماء کا اعتراف اسلام (یا مذہب حق) کی اس امتیازی صفت کا اعتراف وہ سیکولر علماء بھی کرتے ہیں جنھوں نے قانون اور سماج کے معاملات کا تقابلی مطالعہ کیا ہے۔ ان کا اعتراف اگرچہ ان کے اپنے ذہن کے مطابق ہوتا ہے، تا ہم اصولی طور پر وہ شریعت یا مذہبی قانون کی اس خصوصیت کو تسلیم کرتے ہیں کہ قانون کے نفاذ کو ممکن بنانے کے لیے اس کے یہاں ایک ایسا مزید عنصر موجود ہوتا ہے جو عام سیکولر قوانین میں پایا نہیں جاتا اور نہ یہ ممکن ہے کہ ان میں ایسا اضافی عنصر پایا جائے۔ مثال کے طور پر برٹرینڈ رسل (۱۹۷۰-۱۸۷۲) نے انگریز فلسفی جان لاک (John Locke) کے نقطہ نظر پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ایک شخص جو ابھی نیک جذبات رکھتا ہے ۔ اس کے اندر قزاق بننے کی خواہش ابھری ، تو وہ اپنے سے کہے گا کہ میں انسانی مجسٹریٹ سے بچ سکتا ہوں مگر میں خدائی مجسٹریٹ کے ہاتھ سے سزا پانے سے کسی طرح بچ نہیں سکتا۔ اس احساس کے مطابق وہ اپنے بُرے منصوبوں کو چھوڑ دے گا اور اس طرح نیک اور صالح بن کر رہے گا جیسے کہ اس کو بالکل یقین ہے کہ اگر اس نے ایسا کیا تو یقینی طور پر وہ پولیس کے ذریعہ پکڑا جائے گا : The hitherto virtuous man who is tempted to become a highwayman will say to himself: 'I might escape the human magistrate, but I could not escape punishment at the hands of the Divine Magistrate.' He will accordingly renounce his nefarious schemes, and live as virtuously as if he were sure of being caught by the police. (p. 594) Bertrand Russell, A History of Western Philosophy, Unwin Paperback, London, 1984. ایک انسان روبوٹ کی مانند نہیں ہوتا۔ روبوٹ مجبور ہے کہ وہ وہی کرے جو اس کا مشینی نظام اس کو کرنے کے لیے کہتا ہو۔ مگر انسان ایک زندہ اور خود فکر مخلوق ہے۔ وہ آزاد ارادہ کا مالک ہے۔ اس لیے انسان اسی وقت کامل اطاعت پر راضی ہوتا ہے جب کہ اس کا ارادہ بھی خارجی حکم کے مطابق ہو۔ اگر اس کا اپنا ارادہ مطابقت نہ کرے تو وہ ہر خارجی حکم سے فرار کا راستہ تلاش کر لے گا اور محض خارجی حکم کے ذریعہ اس کو پابند بنانا ممکن نہ ہوگا۔ یہاں دو تقابلی مثالیں لی جاتی ہیں۔ ایک ، قدیم دور سے متعلق۔ اور دوسری ، جدید دور سے متعلق۔ ان مثالوں سے اس معاملہ کی تجرباتی وضاحت ہو جاتی ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader