Urdu book · مضامین اسلام

استدلالی منطق

Urdu book, p. 6

By Maulana Wahiduddin Khan

استدلالی منطق صنعَت کو دیکھ کر صانِع کا تصور پیدا ہونا، یا واقعِہ کو دیکھ کر صاحبِ واقعہ کا اقرار ایک بالکل فطری بات ہے۔ فطری منطق کے اعتبار سے اس میں کوئی شبہ نہیں، یہی فطری منطق ہے جس کو قدیم زمانہ میں عرب کے ایک دیہاتی شخص نے استعمال کرتے ہوئے کہا تھا : سئل اعرابى عن الدليل فقال - البعرة ایک اعرابی سے پوچھا گیا کہ خدا کے وجود کی دلیل تدل على البعير والروث على الحمير کیا ہے۔ اس نے کہا کہ اونٹ کی مینگی اونٹ پر وآثار الأقدام على المسير - فسماء ذات دلیل ہوتی ہے۔ گدھے کی لید گدھے پر دلیل أبراج وأرض ذات فجاج وبحار ہوتی ہے۔ پاؤں کے نشان چلنے والے پر دلیل ذات أمواج ، اما تدل على ہوتے ہیں۔ پھر برجوں والا آسمان اور راستوں الصانع الحكيم - والی زمین اور موجوں والے سمندر، کیا یہ چیزیں (السعادة الأبدية فى الشريعة الاسلامية ، صفحہ ۴۴) حکمت والے صانِع پر دلیل نہیں ۔ کھلے ذہن والے انسان کے لیے یہ دلیل نہایت واضح اور قطعی ہے۔ مگر فلسفیانہ موشکافی پیدا کرنے والے بہت سے لوگوں نے اس دلیل کو نا کافی بتایا۔ انھوں نے کہا کہ یہ صرف ایک اِنستنباطی دلیل ہے۔ یعنی بعض نشانیوں سے یہ مستنبط کیا گیا ہے کہ یہاں خدا جیسی ایک حقیقت موجود ہے۔ یہ خدا کے وجود پر بالواسطہ استدلال ہے نہ کہ براہِ راست استدلال ۔ یہ اعتراض قدیم زمانہ میں بظاہر وزنی معلوم ہوتا تھا ۔ کیوں کہ انسانی علم کائنات کو ایک ایسی چیز فرض کیے ہوئے تھا جو براہِ راست انسانی مشاہدہ میں آسکتی ہے۔ قدیم تصویر یہ تھی کہ تمام چیزیں اپنے آخری تجزیہ میں ٹھوس مادی ذرات کا مجموعہ ہیں ۔ ان کا مشترک نام ایٹم ہے۔ حتی کہ نیوٹن کے نزدیک روشنی بھی چھوٹے چھوٹے ذرات کا مجموعہ تھی جو روشن چیز سے نکل کر فضا میں پھیل جاتے تھے ۔ اس نظریہ کو ذراتِ نور کا نظریہ (carpuscles theory of light) کہا گیا۔ مگر یہ نظریہ صرف اس وقت تک تھا جب کہ انسانی مطالعہ کائناتِ کبیر کی سطح تک محدود تھا۔ جب انسانی علم اس ظاہری سطح سے گزر کر کائنات (microcosmic level)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page