استدلالی منطق
Urdu book, p. 7
By Maulana Wahiduddin Khan
صغیر کی سطح (macrocosmic level) تک پہنچتا تو سارا معاملہ بالکل مختلف ہو گیا، جس ایٹم کو جزو لا یتجزأ سمجھا جا رہا تھا وہ ٹوٹ گیا۔ اور اس کے بعد تمام موجودات ایسی لہروں (waves) میں تبدیل ہو گئیں جن کو نہ دیکھا جا سکتا تھا اور نہ یہ ممکن تھا کہ ان کی پیمائش کی جا سکے۔ علم انسانی میں یہ تبدیلی بیسویں صدی عیسوی کے ربع اول میں پیدا ہوئی ۔ اس کے نتیجہ میں قدرتی طور پر منطق یا اصول استدلال میں بھی تبدیلی آگئی۔ اب یہ معلوم ہوا کہ کائنات کی کسی بھی چیز کی آخری نوعیت کو براہ راست طور پر جانا نہیں جا سکتا۔ ہمارے لیے صرف یہ ممکن ہے کہ چیزوں کے اثرات (effects) کو دیکھ کر یہ رائے قائم کریں کہ یہاں فلاں نوعیت کی چیز پائی جا رہی ہے۔ اس طرح علم انسانی سے براہ راست استدلال کا افسانہ ختم ہو گیا۔ اب یہ خود علمی سطح پر مان لیا گیا کہ بالواسطہ استدلال ایک معقول (valid) استدلال ہے۔ کیوں کہ اس کے سوا کوئی اور استدلال ہمارے لیے ممکن ہی نہیں۔ تین سو سال پہلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ ہمارے لیے انتخاب براہ راست استدلال اور بالواسطہ استدلال میں ہے۔ چنانچہ انسان نے براہ راست استدلال کو اعلیٰ استدلال سمجھ کر اس کو لے لیا۔ اب معلوم ہوا کہ ایسا نہیں ۔ بلکہ ہمارے لیے انتخاب بالواسطہ استدلال اور عدم استدلال میں ہے۔ یعنی ہم کو بالواسطہ استدلال کو استدلال ماننا ہوگا۔ اگر ہم بالواسطہ استدلال کو معقول استدلال نہ مانیں تو اس کے بعد ہمارے پاس استدلال کی کوئی اور بنیاد ہی باقی نہیں رہتی۔ اس نئی دریافت نے انسان کو مجبور کیا کہ وہ بالواسطہ استدلال کو معقول استدلال (valid argument) کی حیثیت سے تسلیم کر لے۔ موجودہ زمانہ کے تمام وہ نظریات جو سائنٹفک نظریات کہے جاتے ہیں اور جن کے اوپر نظری سائنس کی پوری عمارت قائم ہے، وہ سب کے سب بالواسطہ استدلال ہیں نہ کہ براہ راست استدلال۔ اس جدید علمی انقلاب کی روشنی میں دیکھیے تو عرب بدو کا مذکورہ استدلال عین علمی استدلال نظر آئے گا۔ علم انسانی کی دنیا میں اس تبدیلی نے موجودہ زمانہ میں اس سادہ استدلال کو عین سائنسی استدلال بنا دیا ہے۔ اب ان دونوں میں کوئی اصولی اور بنیادی فرق نہیں ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader