اثر العقیدہ فی تطبیق الشریعہ
Urdu book, p. 79
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کی وجہ یہ ہے کہ یورپ یا جاپان یا امریکہ کے پاس جو کچھ تھا، اس کو وہ آخری حد تک ظاہر کر چکے۔ ان ملکوں کے پاس انسان کی مادی ترقی کا پرو گرام تھا۔ اس پرو گرام کو وہ آخری حد تک عمل میں لا چکے ہیں۔ مگر مادی ترقیات کے آخری کنارے پر کھڑا ہوا جدید انسان محسوس کر رہا ہے کہ اس کی فطرت مزید کسی چیز کی طالب ہے، اور ان مادی ترقیوں میں وہ چیز موجود نہیں۔ یہ مزید چیز بلا شبہ نظریہ حیات ہے۔ انسان جس نوعیت کی مخلوق ہے، وہ صرف مادی سامان پر مطمئن نہیں ہو سکتا۔ اسی کے ساتھ اس کو اپنی زندگی کے لیے ایک فکری توجیہ بھی لازمی طور پر درکار ہے۔ یہ فکری توجیہہ یا یہ نظریہ حیات اس کو اسلام کے سوا کہیں اور نہیں مل سکتا۔ یہی واقعہ اس بات کا اشارہ کر رہا ہے کہ آنے والی صدی کے لیے مقدر ہے کہ وہ اسلام کی صدی بنے۔ تاہم اسلام کی صدی اپنے آپ نہیں آئے گی۔ اس امکان کو واقعہ بنانے کے لیے صحیح انداز پر جد و جہد کرنا ضروری ہے۔ اس میدان میں جو لوگ کام کرنے کے لیے اٹھیں، ان کو جاننا چاہیے کہ انہیں اپنے کام کو اصولی طور پر دو مرحلوں میں تقسیم کرنا ہے۔ پہلے مرحلہ میں ان کا بنیادی نشانہ دعوت ہو گا۔ یعنی جدید مواقع کو استعمال کرتے ہوئے موثر انداز میں اسلام کا تعارف کرنا، انسانی شکل کو دوبارہ توحید کی بنیاد پر قائم کرنا۔ اس ابتدائی کام کو ضروری حد تک انجام دینے کے بعد وہ وقت آئے گا جب اسلام کے قانونی اور اجتماعی احکام کو عملی طور پر نافذ کیا جائے ۔ اس معاملہ میں انہیں الا قدم فالاقدم کے اصول پر عمل کرنا ہے۔ یہی اسلام کا تقاضا ہے، اور یہی عقل کا تقاضا بھی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader