Urdu book · مضامین اسلام

اثر العقیدہ فی تطبیق الشریعہ

Urdu book, p. 78

By Maulana Wahiduddin Khan

سائنس داں کے اس قول کا مطلب خود کائنات کے ناقابل فہم ہونے کو بتانا نہیں ہے۔ بلکہ اس کی مادی تشریح کی نارسائی کو بتانا ہے۔ اس کے الفاظ کو بدل کر اگر اصل مفہوم کے اعتبار سے اس کو بیان کیا جائے تو وہ یہ ہوگا کہ _______ کائنات کی تشریح اگر خدائی بنیاد پر کی جائے تو وہ قابل فہم نظر آئے گی مگر وہ ہم کو مطلوب نہیں۔ اس کے برعکس ہم کائنات کی تشریح خدا کو حذف کرکے کرنا چاہتے ہیں مگر اس طرح کائنات قابل فہم نہیں بنتی۔ یہ ہے وہ مقام جہاں آج فکر جدید کھڑا ہوا ہے۔ فکر جدید نے خدا کا براہ راست اعتراف نہیں کیا۔ تاہم بالواسطہ پر وہ یہ اقرار کر رہا ہے کہ خدا کو فکری بنیاد بنائے بغیر کائنات کے ظاہر کو سمجھا نہیں جاسکتا۔ اس صورت حال نے ہمارے لیے کام کو بہت آسان کر دیا ہے۔ جدید انسان خود اپنی تحقیق کے نتیجہ میں لاالہ کے مقام پر پہنچ چکا ہے۔ اب ضرورت ہے کہ اس کو الا اللہ کی حقیقت سے متعارف کرایا جائے۔ دوسری چیز جس کا میں حوالہ دینا چاہتا ہوں وہ سوویت یونین کا سقوط ہے۔ سوویت یونین کا سقوط صرف ایک ایمپائر کا سقوط نہیں ہے۔ یہ واقعہ اس سے کہیں زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ سوویت یونین کے سقوط سے پہلے دنیا کے پاس اشتراکیت کی صورت میں زندگی کی ایک آئیڈیالوجی تھی۔ یہ اگرچہ ایک فرضی آئیڈیالوجی (false ideology) تھی۔ تاہم وہ دنیا کے ایک بڑے طبقہ کو اس غلط فہمی میں ڈالے ہوئے تھی کہ اس کے پاس ایک آئیڈیالوجی ہے اور اس کے ذریعہ وہ انسانی تاریخ کی اور کائنات کی تشریح کر سکتا ہے۔ مگر سوویت یونین کے سقوط نے اس بھرم کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا۔ اب ساری جدید دنیا میں ایک نظریاتی خلا (ideological vacuum) پیدا ہوگیا ہے۔ اب اسلام کے سوا کوئی نظریہ میدان میں نہیں۔ گویا کہ اس صورت حال نے اسلام کو بلامقابلہ کامیابی (unopposed victory) کی پوزیشن میں پہنچا دیا ہے۔ اگر اہل اسلام اس پیدا شدہ صورت حال کو واقعی طور پر استعمال (avail) کریں تو کم مدت کی محنت سے شاکلہ انسانی کو دوبارہ دین توحید کے موافق بنایا جا سکتا ہے۔ آج کل کثرت سے ایسی رپورٹیں اور کتابیں چھپ رہی ہیں جن میں اکیسویں صدی کے بارہ میں اندازے کیے جا رہے ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ آنے والی صدی جاپان کی صدی ہوگی۔ کوئی اس کو یورپ یا امریکہ کی صدی بتاتا ہے۔ مگر زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ آنے والی صدی اسلام کی صدی ہوگی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page