Urdu book · مضامین اسلام

اسلام میں عدل اجتماعی

Urdu book, p. 85

By Maulana Wahiduddin Khan

ہوئی نسلوں کے بارہ میں ہمدرد نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ اس کا عقیدہ اس کے اندر جو مزاج پیدا کرتا ہے وہ یہی ہے۔ اس قسم کے مفروضات کی بنیاد پر وہ نظریہ نکلا جس کو ان کی اپنی غلطی (Their own fault) کہا جاتا ہے۔ یعنی جو لوگ کسی دوسرے کی طرف سے نابرابری کے سلوک کا تجربہ کر رہے ہیں وہ خود ان کی اپنی کوتاہی کا نتیجہ ہے۔ گویا یہ ظلم مظلوم کی اپنی تقدیر ہے۔ اس کے لیے ظالم قصور وار نہیں (363/ 15) اسلام آیا تو اس نے مکمل طور پر اس قسم کے تمام نظریات کو منہدم کر دیا۔ اسلام نے مسلسل مختلف طریقوں سے یہ تصور پیش کیا کہ ظاہری فرق کے باوجود تمام انسان برابر ہیں۔ سب کو یکساں عزت اور انصاف کا حق حاصل ہے ۔ کوئی انسان نہ کسی سے برتر ہے اور نہ کوئی انسان کسی سے کمتر۔ یہاں اس سلسلہ میں دو حوالے نقل کیے جاتے ہیں ۔ قرآن میں اعلان کیا گیا ہے : یا ایہا الناس انا خلقناكم من ذكر وأنثى اے لوگو، ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے وجعلناكم شعوبا وقبائل لتعارفوا پیدا کیا۔ اور تم کو قوموں اور خاندانوں میں تقسیم کر دیا ان اكرمكم عند الله اتقاكم۔ تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔ بے شک اللہ کے ان الله عليم خبير ( الحجرات (۱۳) نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیز گار ہے۔ بے شک اللہ جاننے والا، خبر رکھنے والا ہے۔ قرآن کی اس آیت کے مطابق ، انسانوں میں رنگ اور نسل کا جو فرق ہے وہ تعارف کے لیے ہے نہ کہ امتیاز کے لیے۔ انسان اپنی اصل کے اعتبار سے سب کے سب ایک ہیں۔ ان میں امتیاز کی بنیاد اگر کوئی ہے تو وہ صرف تقویٰ ہے۔ قابل عزت وہ ہے جو خدا پرست ہے۔ جو خدا اور بندوں کے حقوق کو پہنچانتا ہے اور ان کو ٹھیک ٹھیک ادا کرتا ہے۔ روایات میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں خطبہ دیا۔ آپ ایام تشریق میں اپنے اونٹ پر بیٹھے ہوئے تھے۔ اس وقت آپ نے جو باتیں فرمائیں ان میں سے ایک بات یہ تھی : يا ايها الناس ألا إن ربكم واحد اے لوگو سن لو، بے شک تمہارا رب ایک ہے اور وإن أباكم واحد ألا لافضل بے شک تمہارا باپ ایک ہے۔ سن لو کسی عربی کو کسی لعربي على اعجمي ولا لعجمي على عربی عجمی پر کوئی فضیلت نہیں اور کسی عجمی کو کسی عربی پر کوئی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page