Urdu book · مضامین اسلام

اسلام میں عدل اجتماعی

Urdu book, p. 86

By Maulana Wahiduddin Khan

ولا لأسود علی احمر ولا لاحمر فضیلت نہیں۔ اور کسی کالے کو کسی سرخ پر کوئی فضیلت علی اسود الا بالتقوی۔ الاهل نہیں اور کسی سرخ کو کسی کالے پر کوئی فضیلت نہیں۔ بلغت قال وانعم قال فلیبلغ جو کچھ فضیلت ہے تقویٰ کی بنیاد پر ہے۔ کیا میں الشاهد الغائب (الجامع لاحکام نے تم کو پہنچادیا۔ لوگوں نے کہا کہ ہاں۔ آپ نے فرمایا القرآن (۳۴۲/۱۶ کہ جو حاضر ہے وہ غیر حاضر کو یہ بات پہنچادے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ اعلان اپنی عمر کے آخری سال کیا تھا۔ اس وقت پورا عرب فتح ہو چکا تھا۔ اس لیے آپ کا یہ اعلان محض ایک مصلح کا اعلان نہ تھا، بلکہ حاکم وقت کا اعلان تھا۔ یہ اعلان نہ صرف ایک اصول مساوات کے طور پر سنا گیا بلکہ عین اسی وقت وہ بالفعل قائم اور نافذ بھی ہو گیا۔ اس اعلان کے مطابق، آپ نے تمام لوگوں کو بتایا کہ اس دنیا کا جس طرح خالق ایک ہے۔ اسی طرح تمام انسان ایک ہی باپ اور ماں سے پیدا ہوتے ہیں۔ تمام انسان ایک ہیں۔ تمام انسان آپس میں بھائی اور بہن ہیں۔ ان میں ظاہری اعتبار سے فرق ہو سکتا ہے مگر عزت اور احترام اور قانونی انصاف کے اعتبار سے ان میں کوئی فرق نہیں۔ جہاں تک انسانوں میں ظاہری درجات کا تعلق ہے ، اسلام نے بتایا کہ یہ درجات آزمائش کے لیے ہیں نہ کہ امتیاز کے لیے۔ اللہ تعالی نے اس دنیا میں تمام انسانوں کو امتحان کے لیے پیدا کیا ہے۔ کسی انسان کو جو سامان یا جو حیثیت ملتی ہے وہ اس کے لیے سامانِ آزمائش ہے، وہ گویا اس کے لیے امتحان کا پر چہ ہے۔ اس دنیا میں کبھی بھی ایک امتحانی حالت ہے اور زیادتی بھی ایک امتحانی حالت۔ ایک حیثیت بھی امتحان کے لیے ہے اور دوسری حیثیت بھی امتحان کے لیے۔ اس لیے آدمی کو ساری نظر اس پر رکھنا چاہیے کہ وہ اپنے امتحان میں پورا اترارہا ہے یا نہیں۔ نہ کہ اپنی حالت کو دیکھ کر وہ احساس کمتری یا احساسِ برتری میں مبتلا ہو جائے (الفجر) سائنسی تصدیق موجودہ زمانہ میں انسانی نسلوں کے بارہ میں جونی نفسیاتی اور حیاتیاتی تحقیقات ہوئی ہیں انھوں نے اسلام کی واضح تصدیق کی ہے اور دوسرے نظریات کو خالص علمی اعتبار سے رد کر دیا ہے۔ موجودہ زمانہ میں مانیلی کیولر بیالوجی (Molecular biology) نے تحقیق کا نیا میدان

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page