اسلام میں عدل اجتماعی
Urdu book, p. 88
By Maulana Wahiduddin Khan
بھی شخص ، اگر وہ ظلم کرتا ہے تو وہ اللہ کی پکڑ سے بچ نہیں سکتا۔ وہ وقت بہر حال آتا ہے کہ ہر آدمی اپنے کیئے کا انجام بھگتے ، خواہ اس نے ایک ذرہ کے برابر ظلم کیوں نہ کیا ہو ( الزلزال) مسئولیت (accountability) کا نظریہ آدمی کو آخری حد تک چوکنّا کر دیتا ہے۔ یہ فکر جس کے سینہ میں جاگ جائے وہ انسانوں کے ساتھ معاملہ کرنے میں سخت محتاط ہو جاتا ہے۔ وہ خود اپنے بچاؤ کے لیے ضروری سمجھتا ہے کہ ہر ایک ساتھ انصاف کرے۔ وہ لوگوں کے ساتھ زیادتی کرنے سے پوری طرح اپنے آپ کو بچائے۔ عام حالات میں سماجی انصاف محض دوسروں کی ضرورت رہتا ہے۔ مگر مسئولیت کا عقیدہ سماجی انصاف کو خود اپنی ضرورت بنا دیتا ہے۔ اور کون ہے جو خود اپنی ضرورت کے بارہ میں غافل ہو جائے۔ مسئولیت کا عقیدہ اتنا شدید چیک ہے کہ ظلم تو درکنار ، ظلم کے شائبہ سے بھی آدمی بچنے لگتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک بار اپنی اہلیہ ام سلمہؓ کے حجرے میں تھے۔ آپ نے کسی کام کے لیے خادمہ کو بھیجا۔ وہ باہر گئی تو وہاں کھیل کو د دیکھنے لگی اور واپسی میں دیر کر دی۔ کافی دیر کے بعد وہ واپس آئی اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک مسواک تھی۔ آپ کے چہرے پر غصہ کے آثار ظاہر ہو گئے۔ تا ہم آپ نے خادمہ سے صرف یہ کہا کہ اگر مجھے قیامت میں بدلہ کا ڈر نہ ہوتا تو میں تجھ کو اس مسواک سے مارتا (لولا خشية القوده لا وجعتك بهذا السواك) قدیم زمانہ میں خادم کو مارنا مالک کا فطری حق سمجھا جاتا تھا۔ مگر اسلام نے جو ذہن بنایا اس کا نتیجہ ہوا کہ غلطی کے با وجود مسلمان اپنے خادم کو مارنے سے احتراز کرتے تھے۔ کیونکہ یہ اندیشہ ہوتا تھا کہ ان کا یہ فعل کہیں خود اپنی بازپرس کا سبب نہ بن جائے۔ ایک صحابی ابو مسعود انصاری ایک بار کسی غلطی پر اپنے غلام کو مارنے لگے۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ادھر سے گزرے۔ آپ نے فرمایا کہ اے ابو مسعود ، جان لو کہ جتنی قدرت تم کو اس غلام پر ہے ، اس سے زیادہ قدرت تمہارے اوپر خدا کو ہے (اعلم ابا مسعود ، للہ اقدر عليك منك على هذا الغلام) یہ سنتے ہی ابو مسعود کے ہاتھ سے ڈنڈا چھوٹ کر گر پڑا ۔ انھوں نے غلام سے کہا کہ جاؤ تم آزاد ہو۔ اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام ظاہری فرق کو مٹا کر ہر آدمی کو عین اسی مقام پر کھڑا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader