اسلام میں عدل اجتماعی
Urdu book, p. 87
By Maulana Wahiduddin Khan
کھول دیا ہے۔ چنانچہ امریکہ میں جینیٹکس کے ماہرین کی ایک ٹیم نے باقاعدہ ریسرچ کے ذریعہ یہ معلوم کرنے کی کوشش کی کہ وہ انسانیت کے مشترک جد اعلیٰ (common ancestor) کو دریافت کریں۔ اس ٹیم نے جنینی شہادت (Genetic evidence) کی بنیاد پر یہ نتیجہ نکالا ہے کہ تمام انسانوں کے جد اعلیٰ ایک تھے۔ رنگ وغیرہ کا فرق جو بظاہر دکھائی دیتا ہے وہ محض اضافی ہے۔ اس کا نسلی علیحدگی سے کوئی تعلق نہیں۔ اس کے مطابق تمام انسان ایک عظیم خاندان (Great family) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ تمام لوگ ایک ہی حیاتیاتی اخوت (biological brotherhood) کے رشتہ میں بندھے ہوئے ہیں (نیوزویک 11 جنوری ۱۹۸۸) اس موضوع پر موجودہ زمانہ میں کثرت سے کتابیں اور تحقیقی مقالات شائع ہوئے ہیں۔ یونیسکو کے زیر اہتمام ایک کتاب چھپی ہے جو کہ حسب ذیل ہے : J Comas, The Race Question in Modern Science, 1956. اس کتاب کا باب نسلی توہمات (Racial Myths) اس ضمن میں خاص طور پر قابل ملاحظہ ہے۔ محرک کا مسئلہ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے۔ ان علمی تحقیقات کے باوجود ایسا کیوں ہے کہ دنیا کی عملی صورت حال میں کوئی بڑا فرق واقع نہیں ہوا۔ جن قوموں نے اپنے کو اعلیٰ سمجھ لیا تھا، وہ آج بھی اپنے کو اعلیٰ سمجھے ہوئے ہیں۔ اور ان قوموں کے ساتھ نئی نئی صورتوں میں نا انصافی کی جا رہی ہے جن کو قدیم تصور کے تحت کمتر سمجھ لیا گیا تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سماجی انصاف کے معاملہ میں صرف ایک نظریہ کا پایا جانا کافی نہیں۔ اسی کے ساتھ ایک طاقت اور محرک کا ہونا بھی انتہائی ضروری ہے۔ اور طاقت ور محرک اسلام کے سوا کہیں اور موجود نہیں۔ اسلام نے جس طرح ایک کامل نظریہ دیا ہے ، اسی طرح وہ اس معاملہ میں ایک انتہائی طاقت ور محرک بھی انسان کو دیتا ہے۔ قرآن میں ایک طرف عدل کا حکم دیا گیا ہے (النحل ۹۰) اور دوسری طرف مکافات عمل کا نظریہ پیش کیا گیا ہے۔ یہ خبر دی گئی ہے کہ انسان کے تمام اعمال کی مکمل ریکارڈنگ کی جا رہی ہے۔ موت کے بعد ہر آدمی اللہ کی عدالت میں کھڑا کیا جائے گا۔ وہاں ہر ایک کو اس کے عمل کا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ کوئی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader