Urdu book · مضامین اسلام

اسلام میں عدل اجتماعی

Urdu book, p. 90

By Maulana Wahiduddin Khan

صورت میں مسئلہ انسان اور انسان کے درمیان رہتا ہے۔ اور جب مسئلہ انسان اور انسان کے درمیان ہو تو کسی بھی طرح انسان کو اس پر مطمئن نہیں کیا جا سکتا کہ ایک اور دوسرے کے درمیان فرق نہیں ہے۔ کیونکہ فرق تو واقعہ میں موجود ہے اور پوری طرح موجود ہے۔ انسانوں کے درمیان فرق کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔ البتہ فرق کے اثر کو ختم کیا جاسکتا ہے ، اور وہ اس طرح کہ معاملہ کو انسان اور انسان کا معاملہ بنانے کے بجائے اس کو انسان اور خدا کا معاملہ بنا دیا جائے۔ ہر انسان یہ سمجھنے لگے کہ تمام انسانوں کے اوپر ایک خدا ہے اور تمام معاملات کو آخر کار اسی کے یہاں جانا ہیں۔ اس کے فیصلہ کو رد کرنا کسی کے لیے ممکن نہیں۔ اسلام کے سوا دوسرے جن مذاہب میں خدا کا تصور ہے، وہ تحریف کی بنا پر عملاً اس مقصد کے لیے غیر مؤثر ہوگیا ہے۔ مثلاً مسیحیت میں خدا کا بیٹا سولی پر چڑھ کر تمام انسانوں کے گناہ کا کفارہ بن چکا ہے۔ یہودیت میں نجات ایک گروہ کا حق ہے جس کی بخشش پیشگی طور پر ہو چکی ہے۔ ہندو ازم میں خدا کا عقیدہ وحدت الوجود (monism) کی صورت میں ہے۔ جو کہ عملاً بے فائدہ ہے۔ اسلامی توحید میں خدا علحدہ ہستی ہے اور تمام انسان اس کے بندے اور مخلوق ہیں۔ اس عقیدہ سے آدمی کے اندر عجز کا تصور ابھرتا ہے۔ اس کے برعکس ہندوازم میں خدا ہی واحد حقیقت ہے۔ انسان کوئی علحدہ وجود نہیں۔ انسان (خود بھی) خدا کے وسیع تر وجود کا ایک جز ہے۔ یہ عقیدہ برعکس طور پر برتری کا جذبہ پیدا کر دیتا ہے۔ اسلامی توحید میں بندہ ہوں" کا احساس جگاتی ہے ، جب کہ ہندو عقیدہ "میں خدا ہوں" کا جذبہ بیدار کرتا ہے۔ اول الذکر سے عجز کی نفسیات پیدا ہوتی ہے اور ثانی الذکر سے گھمنڈ کی نفسیات۔ اور جس سماج کے افراد اپنے اندر گھمنڈ کی نفسیات لیے ہوئے ہوں وہاں سماجی انصاف کا ماحول پیدا کرنا کسی طرح ممکن نہیں۔ جدید تدبیروں کی ناکامی ۳۰ سال پہلے ایمنسٹی (Amnesty International) کا ادارہ قائم کیا گیا۔ اس کا ہیڈ کوارٹر لندن میں تھا۔ اس کو انسانی حقوق کا چوکیدار (Human rights watchdorg) سمجھا جاتا تھا۔ مگر اس مدت میں وہ اخباری رپورٹروں کے سوا اور کوئی بھی حقیقی خدمت انجام نہ دے سکا۔ دسمبر ۱۹۹۱ میں اس کی عمر کے ۳۰ سال پورے ہو گئے مگر ادارہ کی طرف سے اس کی کوئی تقریب نہیں منائی گئی۔ ادارہ کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page