اسلام میں عدل اجتماعی
Urdu book, p. 91
By Maulana Wahiduddin Khan
خاتون نمائندہ فرینکا سیوٹو (Ms Franca Siuto) سے پوچھا گیا کہ آپ کا ادارہ ۲۰ سال پورے ہونے پر کیا کوئی تقریب منائے گا۔ انھوں نے کہا حقیقت یہ ہے کہ یہاں کوئی بھی چیز تقریب منانے کے لیے نہیں : There isn’t really anything to celebrate. ہر سال، ۱۰ دسمبر کو اقوام متحدہ کی طرف سے ”یوم حقوق انسانی “ منایا جاتا ہے۔ اس سال اس موقع پر اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل جیویر پریز ڈی کوٹیار (Javier Peres de Cuellar) نے جو بیان جاری کیا، اس میں انھوں نے دنیا بھر میں طاقت کے اندھا دھند استعمال اور انسانوں کے ساتھ ہونے والے وحشیانہ سلوک پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ ۳۴ سال پہلے اقوام متحدہ کے تحت منظور شدہ اعلان حقوق انسانی ( یونیورسل ڈکلیریشن آف ہیومن رائٹس) کے باوجود اب بھی بڑے پیمانہ پر اس کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے (نیشنل ہیرالڈ ۱۱ دسمبر ۱۹۹۱) امن اور انصاف کے قیام میں ان اداروں کی ناکامی کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ انسانی زندگی میں امن اور انصاف اپیلوں یا اخباری بیانوں سے قائم نہیں ہوتا۔ اس کے لیے ضرورت ہے کہ اس کے موافق ایک صحیح آئیڈیالوجی ہو، اس آئیڈیالوجی کی بنیاد پر لوگوں کے اندر فکری انقلاب لایا جائے۔ پھر یہ اصلاح یافتہ لوگ سماجی اداروں کو درست کریں اور اگر حکومت ان کے قبضہ میں آجائے تو حکومت کے ذریعہ سماج کے اندر امن وانصاف قائم کریں۔ ان شرطوں کو تاریخ میں ایک ہی بار کامل طور پر پورا کیا گیا۔ یہ پورا کرنے والے پیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب تھے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ امن وانصاف پر مبنی ایک حقیقی نظام قائم کرنے میں کامیاب ہوئے۔ اس قسم کی کامیابی نہ اس سے پہلے کسی کو ملی اور نہ اس کے بعد۔ مساویانہ انصاف کا نمونہ سوشل جسٹس کے معاملہ میں اسلام کا تیسرا عظیم کنٹری بیوشن یہ ہے کہ اس نے مساویانہ انصاف کا ایک کامل تاریخی نمونہ قائم کر دیا ہے۔ عام خاندانی اور سماجی زندگی سے لے کر حکومت اور اقتدار تک ہر مرحلہ میں اس اصول کو عملاً پر ت کر دکھایا گیا ہے کہ تمام انسان برابر ہیں۔ ہر انسان یکساں عزت کا مستحق ہے۔ اور ہر انسان سے یکساں گرفت کی جائے گی، خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader