Urdu book · مضامین اسلام

اسلام میں عدل اجتماعی

Urdu book, p. 97

By Maulana Wahiduddin Khan

مطابق عوام کے لیے ایک قانون تھا اور بادشاہوں اور اعلیٰ خاندان کے لوگوں کے لیے دوسرا قانون۔ بادشاہ کی زبان قانون ہوتی تھی۔ وہ ہر قانون سے بالاتر تھا۔ یہ اسلام ہے جس نے معلوم تاریخ میں پہلی بار قانون کی اس تقسیم کو توڑا اور تمام لوگوں کے لیے یکساں قانون جاری کیا۔ اب شاہی قانون ختم ہو گیا اور ہر آدمی بشمول بادشاہ قانون کی حکمرانی (rule of king) (rule of law) کے تحت آگیا۔ تاریخ پر اثرات پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی عمر کے آخری سال حج ادا فرمایا۔ اس موقع پر آپ نے وہ خطبہ دیا جو خطبہ حجۃ الوداع کے نام سے مشہور ہے۔ اس خطبہ میں آپ نے جو تاریخی اعلانات فرمائے ان میں سے ایک اعلان یہ تھا : الا كل شيء من امر الجاهلية تحت سن لو، جاہلیت کے معاملہ کی ہر چیز میرے قدموں کے نیچے پامال کر دی گئی۔ قدمت موضوع۔ ان الفاظ میں آپ نے ایک نئے دور کا اعلان فرمایا جو اللہ کی مدد سے آپ کے ذریعہ تاریخ انسانی میں ظاہر ہوا۔ آپ کے ذریعہ تاریخ میں وہ اسباب پیدا کیے گئے جس کے بعد یہ ناممکن ہو گیا کہ کوئی جاہلی طریقہ انسانی زندگی میں اپنی جڑ قائم کر سکے۔ اسلام عرب سے نکل کر مختلف ملکوں میں پھیلا۔ دنیا کا بہت بڑا حصہ اہل اسلام کے زیر اقتدار آگیا۔ مگر کہیں بھی وہ نسلی تفریق ظہور میں نہ آسکی جو دوسری قوموں اور تہذیبوں کے عروج کے زمانہ میں پیدا ہوئی۔ اسی زمانہ میں افریقہ کے بیشتر باشندوں نے اسلام قبول کر لیا۔ یہ سب سیاہ فام تھے اور اسلام سے پہلے انہیں پیدائشی غلام سمجھا جاتا تھا۔ مگر اسلام قبول کرنے کے بعد ان کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک نہیں کیا گیا۔ اسلام میں داخل ہو کر وہ یکساں طور پر اسلامی برادری کا حصہ بن گئے۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا (۱۹۸۴) کے مقالہ نگار نے افریقہ اور دوسرے علاقوں میں اسلام کی اشاعت کا ذکر کرتے ہوئے اس تاریخی حقیقت کا اعتراف ان لفظوں میں کیا ہے کہ مسلم ملکوں میں سے کسی ملک میں بھی نسل کی بنیاد پر ذرات کا نظام کبھی قائم نہ ہو سکا : None of the Muslim countries ever developed a racial caste system. (15/361)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page