اسلام میں عدل اجتماعی
Urdu book, p. 96
By Maulana Wahiduddin Khan
مغل بادشاہ جہانگیر کے زمانہ میں یہ واقعہ ہوا کہ اس کی ملکہ نور جہاں نے ایک غریب آدمی کو بے گناہ قتل کر دیا۔ یہ معاملہ عدالت میں پیش ہوا۔ اسلامی قاضی نے فیصلہ کیا کہ مقتول کے بدلے قاتل (نور جہاں) کو قتل کر دیا جائے۔ بادشاہ یا ملکہ کسی کو ہمت نہیں ہوئی کہ قاضی کے فیصلے کو ماننے سے انکار کرے ۔ یہاں تک کہ خود اسلامی قانون ہی کی ایک اور دفعہ کے تحت معاملہ کو طے کیا گیا۔ اب اس کے مقابل کی مثال لیجئے۔ ہندوستانی حکمران جہانگیر (۱۶۲۷ - ۱۵۶۹) کا ہم عصر برطانیہ کا حکمران جیمز فرسٹ (۱۶۲۵ - ۱۵۶۶) تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ میں قانون سے اوپر ہوں میں ذاتی رائے سے جو چاہوں فیصلہ کر سکتا ہوں۔ اس زمانہ کے برطانی چیف جسٹس سر ایڈورڈ کوک (۱۶۳۴ - ۱۵۵۲) نے اس سے اختلاف کیا۔ جان بیٹ (John Bate) ایک برٹش مرچنٹ تھا۔ اس نے ایک بار امپورٹڈ کشمش پرٹیکس دینے سے انکار کر دیا۔ کیونکہ پارلیمنٹ نے ایسا قانون نہیں بنایا تھا۔ بلکہ جیمز فرسٹ نے ذاتی فرمان سے اس کو جاری کیا تھا۔ جسٹس کوک نے جان بیٹ کی حمایت کی۔ اس پر بادشاہ غصہ ہو گیا۔ اس نے کہا کہ کیا میں قانون کے ماتحت ہوں۔ یہ تو غداری ہے : Am I subject to the law. To say so is treason. جسٹس کوک اپنے نظریہ پر قائم رہے۔ اس کے نتیجہ میں بادشاہ نے ان کو بنچ کے عہدہ سے ہٹا دیا۔ ان کے بارہ میں تاریخ بتاتی ہے کہ بادشاہ سے ان کے قانونی اختلافات ہوئے اور آخر کار انھوں نے اپنا عہدہ کھو دیا : That eventually broke his judicial career. (4/825) جس وقت بادشاہ اور جسٹس کوک کا کیس برطانیہ کی پریوی کونسل میں آیا تو اس وقت کے اٹارنی جنرل فرانس بیکن (Francis Bacon) نے بادشاہ کی قانونی بالا تری کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ججوں کو شیر ہونا چاہیے مگر انھیں ایسے شیر ہونا چاہیے جو شاہی تخت کے ماتحت ہوں : Judges should be lions, but yet lions under the throne. (1/92) پچھلے تمام زمانوں میں قانون کی دو قسمیں تھیں۔ اس کو برطانیہ کی قانونی روایات میں عوامی قانون (common law) اور شاہی قانون (Royal prerogative) کہا جاتا ہے۔ اس کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader