غذائیت
Urdu book, p. 202
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے اور آپ نے چھاتا بغل میں داب رکھا ہے، سرجیمز اپنی بدحواس پر مسکرائے اور چھاتا کھول لیا، دوم یہ کہ آپ جیسا شہرہ آفاق آدمی گرجا گھر میں عبادت کے لیے جا رہا ہے، یہ کیا؟ میرے اس سوال پر پروفیسر جیمز لمحہ بھر کے لیے رک گئے اور پھر میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا آج شام کو چائے میرے ساتھ پیو۔ چنانچہ شام کو میں ان کی رہائش گاہ پہنچا ٹھیک 4 بجے لیدی جیمز باہر آ کر کہنے لگیں ’’سرجیمز تمہارے منتظر ہیں اندر گیا تو ایک چھوٹی سی میز پر چائے لگی ہوئی تھی، پروفیسر صاحب تصورات میں کھوئے ہوئے تھے، کہنے لگے تمہارا سوال کیا تھا اور میرے جواب کا انتظار کیے بغیر اجرام آسمانی کی تخلیق، ان کے حیرت انگیز نظام، بے انتہا پہنائیوں اور فاصلوں، ان کی پیچیدہ راہوں اور مداروں نیز باہمی کشش اور طوفان ہائے نور پروہ ایمان افروز تفصیلات پیش کیں کہ میرا دل اللہ کی اس داستانِ کبریا و جبروت پر ہلنے لگا، اور ان کی اپنی کیفیت یہ تھی سر کے بال سیدھے اٹھے ہوئے تھے، آنکھوں سے حیرت و خشیت کی دوگونہ کیفیتییں عیاں تھیں، اللہ کی حکمت و دانش کی ہیبت سے ان کے ہاتھ قدرے کانپ رہے تھے، اور آواز لرزرہی تھی، فرمانے لگے عنایت اللہ خاں! جب میں خدا کے تخلیقی کارناموں پر نظر ڈالتا ہوں تو میری تمام ہستی اللہ کے جلال سے لرزنے لگتی ہے، اور جب میں کلیسا میں خدا کے سامنے سرنگوں ہو کر کہتا ہوں تو بہت بڑا ہے‘‘ تو میری ہستی کا ہر ذرہ میرا ہم نوا بن جاتا ہے، مجھے بعد سکون اور خوشی نصیب ہوتی ہے، مجھے دوسروں کی نسبت عبادت میں ہزار گنا زیادہ کیف ملتا ہے، کہو عنایت اللہ خاں! تمہاری سمجھ میں آیا کہ میں گرجا جے کیوں جاتا ہوں۔‘‘ علامہ مشرقی کہتے ہیں کہ پروفیسر جیمز کی اس تقریر نے میرے دماغ میں عجیب کہرام

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader