Urdu book · مذہب اور جدید چیلنج

غذائیت

Urdu book, p. 201

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے اور ہر جاندار کے خون میں موجود رہتا ہے، وہ اور جانداروں کے جسم سے تو خارج ہو جاتا ہے، مگر سور کے اندر سے خارج نہیں ہوتا، گردے جوہر انسانی جسم میں ہوتے ہیں، وہ اس زہریلے مادے کو پیشاب کے ذریعہ خارج کرتے رہتے ہیں، انسانی جسم اس مادے کو نوے فیصد خارج کر دیتے ہیں، مگر سور کے جسم کے عضلات کی ساخت (biochemistry) کچھ اس قسم کی واقع ہوئی ہے کہ اس کے خون کا یورک ایسڈ صرف دو فیصد ہی خارج ہو پاتا ہے، اور بقیہ حصہ اس کے جسم کا جزء بنتا رہتا ہے، چنانچہ سور خود بھی جوڑوں کے درد میں مبتلا رہتا ہے، اور اس کا گوشت کھانے والے بھی وجع المفاصل (rheumatism) جیسی بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ اس طرح کی مثالیں کثرت سے قرآن وحدیث میں موجود ہیں اور یہ مثالیں اس بات کا قطعی ثبوت ہیں کہ یہ غیر انسانی ذہن سے نکلا ہوا کلام ہے۔ بعد کی معلومات نے حیرت انگیز طور پر قرآن کی اس پیشین گوئی کی تصدیق کی ہے، جس کو ہم او پر نقل کر چکے ہیں۔ یعنی: ”عنقریب ہم آفاق وانفس میں اپنی نشانیاں دکھائیں گے یہاں تک کہ ظاہر ہو جائے گا کہ یہ حق ہے۔“(فصلت، 53: 41) اس باب کو میں ایک واقعہ پر ختم کروں گا، جس کے راوی علامہ عنایت اللہ مشرقی ہیں، اور اس واقعہ کا تعلق انگلستان سے ہے: ”1909ء کا ذکر ہے، اتوار کا دن تھا، اور زور کی بارش ہورہی تھی، میں کسی کام سے باہر نکلا تو جامعہ کیمبرج کے مشہور ماہر فلکیات سرجیمز جینس (James Jeans) پر نظر پڑی جو بغل میں انجیل دبائے چرچ کی طرف جارہے تھے، میں نے قریب ہو کر سلام کیا، انھوں نے کوئی جواب نہ دیا، دوبارہ سلام کیا تو وہ متوجہ ہوئے اور کہنے لگے، ’تم کیا چاہتے ہو‘ میں نے کہا، دوباتیں اول یہ کہ زور سے بارش ہورہی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page