Urdu book · مذہب اور جدید چیلنج

مذہب اور تمدنی مسائل

Urdu book, p. 204

By Maulana Wahiduddin Khan

مذہب اور تمدنی مسائل تمدنی مسائل کے سلسلے میں بنیادی سوال یہ ہے کہ اس کا قانون کیا ہو، تمدنی مسائل انسانوں کے باہمی روابط سے پیدا ہوتے ہیں، اور ان روابط کو جو چیز منصفانہ طور پر متعین کرتی ہے، وہ قانون ہے، مگر یہ حیرت انگیز بات ہے کہ آج تک انسان اپنی زندگی کا قانون دریافت نہ کر سکا، کہنے کو اگر چہ ساری دنیا میں قانونی حکومتیں قائم ہیں، مگر یہ تمام قوانین نہ صرف یہ کہ اپنے مقصد میں بری طرح ناکام ہیں بلکہ جبری نفاذ کے سوا ان کی پشت پر کوئی حقیقی وجہ جواز بھی موجود نہیں، یہ ایک حقیقت ہے کہ، رائج الوقت قوانین اپنے حق میں اور نظریاتی بنیاد سے محروم ہیں۔ فلر (1902-1078, Lon Luvois Fuller) کے الفاظ میں قانون نے ابھی اپنے آپ کو نہیں پایا ہے، اس نے ایک کتاب لکھی ہے، جس کا نام ہے ۔ قانون خود اپنی تلاش میں۔“ The Law in Quest of Itself دورِ جدید میں اس پر بے شمار لٹریچر تیار ہوا ہے۔ بڑے بڑے دماغ اپنی اعلیٰ صلاحیتیں اور اپنے بہترین اوقات اس کے لیے صرف کر رہے ہیں، اور چیمبر ز انسائیکلو پیڈیا کے مقالہ نگار کے الفاظ میں ”قانون کو ایک زبردست فن کی حیثیت دے کر اس کو عظیم ترقی تک پہونچا دیا ہے۔ مگر اب تک کی ساری کوششیں قانون کا کوئی متفقہ تصور حاصل کرنے میں ناکام رہی ہیں، حتیٰ کہ ایک عالم قانون کے الفاظ میں ”اگر دس قانون دانوں کو قانون کی تعریف بیان کرنے کے لیے کہا جائے تو بلا مبالغہ ہم کو گیارہ مختلف قسم کے جوابات سننے کے لیے تیار رہنا چاہئیے۔ ماہرین قانون کی مختلف اقسام کو الگ کرنے کے لیے انھیں مختلف مکاتیب فکر میں تقسیم کیا جاتا ہے، مگر ان کی قسمیں اتنی زیادہ ہیں کہ بہت سے مصنفین

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page