Urdu book · مذہب اور جدید چیلنج

مذہب اور تمدنی مسائل

Urdu book, p. 205

By Maulana Wahiduddin Khan

اس طرح کی اختیار کردہ وسیع ترین تقسیم کی حد بندیوں میں بھی نہیں آتے، مثال کے طور پر جان آسٹن (John Austin, 1790-1859) کے متعلق پروفیسر جی۔ ڈبلیو۔ پیٹن (G. W. Paton) نے لکھا ہے کہ وہ ہماری وسیع قسم بندی (Broad Division) میں سے کسی ایک میں بھی پوری طرح موزوں نہیں بیٹھتا۔‘‘ A Textbook of Jurisprudence, 1905, p. 5 اس اختلاف کی وجہ یہ ہے کہ ماہرین قانون کو وہ صحیح اساس ہی نہیں ملی جس کی بنیاد پر وہ مطلوبہ قانون کی تشکیل کر سکیں۔ وہ قانون کے اندر جن ضروری قدروں (values) کو یکجا کرنا چاہتے ہیں، جب وہ انھیں یکجا کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ یکجا نہیں ہو رہی ہیں۔ اس سلسلے میں ماہرین قانون کی مثال اس شخص کی سی ہے، جو زندہ مینڈکوں کو ترازو میں رکھ کر تولنے کی کوشش کر رہا ہو۔ ظاہر ہے کہ وہ پانچ مینڈکوں کو یکجا کرے گا تو دوسرے پانچ اس کے پلڑے میں سے پھدک کر نکل کر چکے ہوں گے۔ اس طرح معیاری قانون کو حاصل کرنے کی کوششیں اب تک صرف ناکامی پر ختم ہوئی ہیں۔ فرائیڈ مین (W. Friedmann) کے الفاظ میں: ”یہ ایک حقیقت ہے کہ مغربی تہذیب کو اس مسئلہ کا کوئی حل اب تک اس کے سوا نہیں مل سکا کہ وہ گاہ بگاہ ایک انتہا سے دوسری انتہا کی طرف لڑھک جایا کرے۔‘‘ The only ‘solution’ that western civilization has found, says, W. Friedmann, is to “keep wavering from one extreme to the other.” (Legal Theory, p.18) جان آسٹن جس کی کتاب پہلی بار 1861ء میں شائع ہوئی، اس نے دیکھا کہ قوت نافذہ کے بغیر کوئی قانون، قانون نہیں بنتا، اس لیے اس نے قانون کی تعریف یہ کی: ”قانون ایک حکم ہے جو سیاسی طور پر اعلیٰ شخص (political superior) نے سیاسی طور پر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page