Urdu book · مذہب اور جدید چیلنج

آخری بات

Urdu book, p. 253

By Maulana Wahiduddin Khan

سے ہم صرف بچنے کی فکر کر سکتے ہیں ، اس کے آنے کو ہم ٹال نہیں سکتے ۔ پھر انسان تو کس انتظار میں ہے ، کیا تجھ کو ہوشیار کرنے کے لیے یہ واقعہ کافی نہیں کہ تو اپنے آپ کو موت سے نہیں بچا سکتا ، کیا تجھئے اپنی زندگی کو بدلنے کے لیے اس سے بڑے کسی محرک کی ضرورت ہے کہ اگر تو نے دنیا میں اپنی زندگی نہیں بدلی تو تجھ کو ہمیشہ ہمیشہ کائنات کے ابدی کوڑے خانے میں رہنا ہے ، کیا تو اس سے نہیں ڈرتا کہ دنیا میں جب تیری قبر پر تیرے معتقدین پھول چڑھارہے ہوں تو آخرت میں تو اپنے غیر خدائی عمل کے جرم میں ابدی کوڑے خانے میں پڑا رہے گا۔ وہ دن جو بڑا سخت دن ہوگا ، وہ جب آئے گا تو سارے زمین و آسمان کو الٹ دے گا ، وہ ایک نئی دنیا بنائے گا ، جہاں سچ سچ کی شکل میں ظاہر ہوگا اور جھوٹ جھوٹ کی شکل میں ، کوئی نہ خود دھوکے میں رہے گا ، اور نہ دوسرے کو دھوکا دے سکے گا ، نہ کسی کا زور چلے گا ، نہ سفارش کام آئے گی ، اس دن تیرے الفاظ کے گھروندے بکھر جائیں گے ، تیرے جھوٹے فلسفے بے دلیل ثابت ہوں گے ، تیری فرضی امیدیں تجھے دھوکا دے دیں گی ، تیرا اقتدار تیرے کچھ کام نہ آئے گا۔ تیرے خود ساختہ بت تجھے جواب دے دیں گے ، آہ! انسان کس قدر بے سہارا ہوگا اس روز ، حالاں کہ اسی دن اس کو سب سے زیادہ سہارے کی ضرورت ہوگی ، وہ کتنا محروم ہوگا ، اس روز ، حالاں کہ اسی دن وہ سب سے زیادہ پانے کا محتاج ہوگا۔ انسان ! آج ہی سن لے ، کیوں کہ کل تو سنے گا مگر اس وقت تیرا سننابے کار ہوگا۔ آج ہی سوچ لے ، کیوں کہ موت کے بعد تو سوچے گا مگر اس وقت کا سوچنا تجھے کچھ کام نہ آئے گا۔ خدا کا راستہ تیرے سامنے کھلا ہوا ہے ، اس کو پکڑ لے ، خدا کے رسول پر ایمان لا ، خدا کی کتاب کو اپنی زندگی کا دستور بنا ، آخرت کے دن کے لیے تیاری کر — یہی تیری کامیابی کا رستہ ہے ، اسی میں وہ زندگی چھپی ہوئی ہے ، جس کی تجھے تلاش ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page