Urdu book · مذہب اور جدید چیلنج

آخری بات

Urdu book, p. 252

By Maulana Wahiduddin Khan

آخری بات اگر کسی دن ماونٹ پیلومر کی رصد گاہ سے یہ اعلان ہو کہ زمین کی قوت کشش ختم ہو گئی ہے تو ساری دنیا میں کہرام مچ جائے گا، کیوں کہ اس خبر کے معنی یہ ہیں کہ زمین کا پورا کرہ چھہ ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سورج کی طرف کھینچنا شروع ہو جائے اور چند ہفتوں کے اندر سورج کے عظیم الاؤ میں اس طرح جاگرے کہ اس کی راکھ بھی یہ بتانے کے لیے باقی نہ رہے کہ زمین نام کی کوئی چیز کبھی اس کائنات میں موجود تھی، جس میں اربوں انسان بستے تھے، اور بڑے بڑے تمدنی شہر آباد تھے۔ مگر ماہرین اعداد و شمار کی یہ خبر کہ ہر منٹ میں ساری دنیا کے اندر ایک سو انسان مر جاتے ہیں، ہمارے لیے اس سے بھی زیادہ گھبرا دینے والے بات ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر ایک رات اور دن میں تقریباً پندرہ لاکھ انسان ہمیشہ کے لیے اس دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں۔ 24 گھنٹے میں پندرہ لاکھ! اس صورت حال میں یہ واقعہ مزید شدت پیدا کر دیتا ہے کہ پندرہ لاکھ کا یہ انتخاب تابکار عناصر کے برقی ذرّات کی طرح بالکل نامعلوم طور پر ہوتا ہے، کوئی بھی شخص یقین کے ساتھ نہیں کہہ سکتا کہ اگلے چوبیس گھنٹے کے لیے جن پندرہ لاکھ انسانوں کی موت کی فہرست تیار ہو رہی ہے، اس میں اس کا نام شامل ہے یا نہیں، گویا ہر شخص ہر آن اس خطرے میں مبتلا ہے کہ قضا و قدر کا فیصلہ اس کے حق میں موت کا فرشتہ بن کر آپہنچے۔ یہ جانے والے لوگ کہاں کہاں جاتے ہیں، اس کا جواب آپ کو معلوم ہو چکا ہے کہ وہ کائنات کے مالک کے سامنے اپنے کارنامۂ زندگی کا حساب دینے کے لیے حاضر کیے جاتے ہیں، انھیں اس لیے موت آتی ہے کہ دوسری دنیا میں ان کی وہ مستقل زندگی شروع ہو جو دنیا کے عمل کے مطابق اچھی یا بری انھیں گزارنی ہے، یہ زندگی یا تو بے حد آرام کی زندگی ہے، یا بے حد تکلیف کی زندگی، یہ گھڑی بہر حال آ کر رہے گی۔ ہم سب لوگ ایک ایسے ممکن انجام سے دوچار ہیں جس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page