کائنات خدا کی گواہی دیتی ہے
Urdu book, p. 67
By Maulana Wahiduddin Khan
سکتے ہیں، نہ یہ کہ وہ لا متناہی مدت سے موجود ہے۔“ Mysterious Universe, p.133 اس طرح کے اور بھی طبیعیاتی شواہد ہیں جو یہ ثابت کرتے ہیں کہ کائنات ازل سے موجود نہیں ہے، بلکہ وہ ایک محدود عمر رکھتی ہے، مثلاً فلکیات کا یہ مشاہدہ ہے کہ کائنات مسلسل پھیل رہی ہے، تمام کہکشائیں اور فلکیاتی اجسام مشاہدہ میں نہایت تیزی کے ساتھ ایک دوسرے سے ہٹتے ہوئے نظر آتے ہیں، اس صورت حال کی اس وقت نہایت عمدہ توجیہ ہو جاتی ہے، جب ہم ایک ایسے ابتدائی وقت کو تسلیم کرلیں، جب تمام اجزائے ترکیبی مجتمع اور مرکوز حالت میں تھے، اور اس کے بعد ان میں حرکت و توانائی کا آغاز ہوا، اس طرح کے مختلف قرائن کی بنا پر عام اندازہ یہ ہے کہ لگ بھگ پچاس کھرب سال پہلے ایک غیر معمولی دھماکے سے یہ سارا عالم وجود میں آیا۔ اب سائنس کی اس دریافت کو ماننا کہ کائنات محدود عمر رکھتی ہے، اور اس کے موجد کو نہ ماننا، ایسا ہی ہے، جیسے کوئی شخص یہ تسلیم کرے کہ تاج محل ہمیشہ سے موجود نہیں تھا، بلکہ سترھویں صدی عیسوی کے وسط میں بنا، مگر اس کے باوجود اس کا کوئی معمار اور انجینئر تسلیم نہ کرے اور کہے کہ وہ بس اپنے آپ ایک مخصوص تاریخ کو بن کر کھڑا ہو گیا ہے! 2۔ فلکیات کا مطالعہ ہمیں بتاتا ہے کہ دنیا کے تمام سمندروں کے کنارے ریت کے جتنے ذرے ہیں شاید اسی قدر آسمان میں ستاروں کی تعداد ہے، ان میں کچھ ستارے ایسے ہیں، جو زمین سے کسی قدر بڑے ہیں، مگر بیشتر ستارے اتنے بڑے ہیں کہ ان کے اندر لاکھوں زمینیں رکھی جا سکتی ہیں، اور بعض ستارے تو اس قدر بڑے ہیں کہ اربوں زمینیں ان کے اندر سما سکتی ہیں، پھر بھی کچھ جگہ خالی رہے گی۔ یہ کائنات اس قدر وسیع ہے کہ روشنی کی مانند ایک انتہائی ممکن حد تک تیز اڑنے والا راکٹ جس کی رفتار ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل فی سیکنڈ ہو، وہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader