کائنات خدا کی گواہی دیتی ہے
Urdu book, p. 66
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ نکلے گا کہ کیمیائی اور طبعی عمل کا خاتمہ ہو جائے گا اور زندگی بھی اسی کے ساتھ ختم ہو جائے گی، لیکن اس حقیقت کے پیش نظر کہ کیمیائی اور طبعی عمل جاری اور زندگی کے ہنگامے قائم ہیں، یہ بات قطعی طور پر ثابت ہو جاتی ہے کہ یہ کائنات ازل سے موجود نہیں ہے ورنہ اخراج حرارت کے لازمی قانون کی وجہ سے اس کی توانائی کبھی ختم ہو چکی ہوتی، اور یہاں زندگی کی ہلکی سی رمق بھی موجود نہ ہوتی۔ اس جدید تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے ایک امریکی عالم حیوانات ایڈورڈ لو تھر کیسل (Edward Luther Kessel, 1904-1997) لکھتا ہے: "اس طرح غیر ارادی طور پر سائنس کی تحقیقات نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ کائنات اپنا ایک آغاز (beginning) رکھتی ہے اور ایسا کرتے ہوئے اس نے خدا کی صداقت کو ثابت کر دیا ہے، کیوں کہ جو چیز اپنا ایک آغاز رکھتی ہو وہ اپنے آپ شروع نہیں ہو سکتی، یقیناً وہ ایک محرک اول، ایک خالق، ایک خدا کی محتاج ہے۔" The Evidence of God, p.51 یہی بات سر جیمز نے ان الفاظ میں کہی ہے: "موجودہ سائنس کا یہ خیال ہے کہ کائنات میں نا کارگی (Entropy) کا عمل ہمیشہ جاری رہے گا یہاں تک کہ اس کی توانائی بالکل ختم ہو جائے، یہ نا کارگی ابھی اپنے درجہ کو نہیں پہنچی ہے، اگر ایسا ہو گیا ہوتا تو ہم اس کے متعلق سوچنے کے لیے موجود نہ ہوتے، یہ نا کارگی اس وقت بھی تیزی کے ساتھ بڑھ رہی ہے، اور اس بنا پر اس کا ایک آغاز ہونا ضروری ہے، کائنات میں لازماً اس قسم کا کوئی عمل ہوا ہے، جس کو ہم ایک وقت خاص میں تخلیق (creation at a ime) کہہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader