Urdu book · مذہب اور جدید چیلنج

کائنات خدا کی گواہی دیتی ہے

Urdu book, p. 71

By Maulana Wahiduddin Khan

اندر بھی اس میں ایک سیکنڈ کا فرق نہیں آنے پاتا، زمین کا سیارہ جس کو چاند کہتے ہیں، اس کی گردش بھی پوری طرح مقرر ہے، اس میں جو تھوڑا سا فرق ہوتا ہے، وہ بھی ہر ساڑھے 18 سال کے بعد نہایت صحت کے ساتھ دہرایا جاتا ہے، یہی تمام اجرام سماوی کا حال ہے، حتیٰ کہ ماہرین فلکیات کے اندازے کے مطابق اکثر خلائی گردش کے دوران ایک پورا کهکشانی نظام، جو اربوں متحرک ستاروں پر مشتمل ہوتا ہے، دوسرے کہکشانی نظام میں حرکت کرتا ہوا داخل ہوتا ہے اور پھر اس سے نکل جاتا ہے مگر باہم کسی قسم کا کوئی ٹکراؤ پیدا نہیں ہوتا۔ اس عظیم اور حیرت انگیز تنظیم کو دیکھ کر عقل کو اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ یہ اپنے آپ قائم نہیں ہے، بلکہ کوئی غیر معمولی طاقت ہے جس نے اس اتھاہ نظام کو قائم رکھا ہے۔ یہی ضبط و نظم جو بڑی بڑی دنیاؤں کے درمیان نظر آتا ہے، وہی چھوٹی دنیاؤں میں بھی انتہائی مکمل شکل میں موجود ہے، اب تک کی معلومات کے مطابق سب سے چھوٹی دنیا ایٹم ہے، ایٹم اتنا چھوٹا ہوتا ہے کہ کسی بھی خوردبین سے نظر نہیں آتا، حالانکہ جدید خوردبین کسی چیز کو لاکھوں گنا بڑا کر دکھانے کی صلاحیت رکھتی ہے، ایٹم کی حقیقت انسانی قوت بصارت کے اعتبار سے ’’لا شئے‘‘ سے زیادہ نہیں، مگر اس انتہائی چھوٹے ذرے کے اندر حیرت انگیز طور پر ہمارے شمسی نظام کی طرح ایک زبردست گردشی نظام موجود ہے، ایٹم برق پاروں کے ایک مجموعے کا نام ہے، مگر یہ برق پارے ایک دوسرے سے ملے ہوئے نہیں ہوتے بلکہ ان کے درمیان ایک طویل خلائی حجم ہوتا ہے، سیسے (lead) کا ایک ٹکڑا جس میں ایٹی ذرات کافی سختی اور مضبوطی کے ساتھ آپس میں جکڑے ہوئے ہوتے ہیں، یہ برق پارے حجم کے سو کر ور حصوں میں سے ایک حصہ بھی مشکل سے گھیرتے ہیں، بقیہ حصے بالکل خالی ہوتے ہیں، اگر الیکٹرون اور پروٹون کے دوکڑوں کی حیثیت سے تصویر بنائی جائے تو دونوں کا درمیانی فاصلہ تقریباً 350 گز ہو سکتا ہے یا ایٹم کا تصور گرد کے ایک غیر مرئی ذرہ کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page