Urdu book · مذہب اور جدید چیلنج

کائنات خدا کی گواہی دیتی ہے

Urdu book, p. 72

By Maulana Wahiduddin Khan

حیثیت سے کیا جائے تو الیکٹرون کی گردش سے جو حجم بنتا ہے، اس کی مقدار ایک ایسے فٹ بال کی سی ہو سکتی ہے، جس کا قطر آٹھ فٹ ہو۔ ایٹم کے منفی برق پارے جو الیکٹرون کہلاتے ہیں، وہ مثبت برق پارے کے گرد گھومتے ہیں، جن کو پروٹون کہا جاتا ہے، یہ برقیے، جو روشنی کی کرن کے ایک موہوم نقطہ سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتے، اپنے مرکز کے گرد اسی طرح گردش کرتے ہیں، جیسے زمین اپنے مدار پر سورج کے گرد گردش کرتی ہے، اور یہ گردش اتنی تیز ہوتی ہے کہ الیکٹرون کا کسی ایک جگہ تصور نہیں کیا جا سکتا، بلکہ ایسا محسوس ہوتا ہے، گویا وہ پورے مدار پر ایک ہی وقت میں ہر جگہ موجود ہے، وہ اپنے مدار پر ایک سیکنڈ میں ہزاروں ارب چکر لگا لیتا ہے۔ یہ نا قابل قیاس اور نا قابل مشاہدہ تنظیم اگر سائنس کے قیاس میں اس لیے آجاتی ہے کہ اس کے بغیر ایٹم کے عمل کی توجیہہ نہیں کی جاسکتی تو ٹھیک اسی دلیل سے آخر ایک ایسے ناظم کا تصور کیوں نہیں کیا جاسکتا جس کے بغیر ایٹم کی اس تنظیم کا برپا ہونا محال ہے۔ ٹیلی فون کی لائن میں تاروں کا پیچیدہ نظام دیکھ کر ہمیں حیرت ہوتی ہے ہم کو تعجب ہوتا ہے، جب ہم دیکھتے ہیں کہ لندن سے ملبورن کے لیے ایک کال چند منٹ میں مکمل ہو جاتی ہے، مگر یہاں ایک اور مواصلاتی نظام ہے، جو اس سے کہیں زیادہ وسیع اور اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے، یہ ہمارا اپنا عصبی نظام (nervous system) ہے، جو قدرت نے قائم کر رکھا ہے، اس مواصلاتی نظام پر رات دن کروڑوں خبریں ادھر سے ادھر دوڑتی رہتی ہیں، جو دل کو بتاتی ہیں کہ وہ کب دھڑکے، مختلف اعضا کو حکم دیتی ہیں کہ وہ کب حرکت کریں، پھیپھڑے سے کہتی ہیں کہ وہ کیسے اپنا عمل کرے، اگر جسم کے اندر یہ مواصلاتی نظام نہ ہو تو ہمارا پورا وجود تاش کے پتوں کی مانند منتشر ہو کر رہ جائے۔ اس مواصلاتی نظام کا مرکز انسان کا برین (brain) ہے۔ آپ کے برین کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page