کائنات خدا کی گواہی دیتی ہے
Urdu book, p. 75
By Maulana Wahiduddin Khan
دراصل آنکھ کی میکانکی نقل ہے، کیمرے کا لینس (lens) آنکھ کے ڈھیلے کا بیرونی پردہ ہے، ڈائفرام (diaphragm) پردہ شبکی (iris) ہے، اور روشنی سے متاثر ہونے والی فلم آنکھ کا پردہ ہے، جس میں عکس دیکھنے کے لیے ڈورے اور مخروطی شکلیں ہوتی ہیں۔ (کوئی ذی ہوش یہ کہنے کی غلطی نہیں کرے گا کہ کیمرہ اتفاق سے بن کر تیار ہو گیا ہے، مگر اس کے باوجود دنیا کے بہت سے لوگ یہ یقین رکھتے ہیں کہ ”آنکھ محض اتفاق سے وجود میں آ گئی ہے۔“) ماسکو یونیورسٹی میں زیر صوتی ارتعاش (infrasonic vibrations) معلوم کرنے اور اس کی پیمائش کرنے کا ایک نمونے کا آلہ تیار کیا گیا ہے، جو طوفان کی آمد کی اطلاع 12 سے 15 گھنٹے پہلے تک دے دیتا ہے، یہ مروجّہ آلوّں سے پانچ گنا زیادہ طاقت ور ہے، اس کا خیال کس نے پیدا کیا؟ مچھلی (Jelly Fish) نے۔ انجینئروں نے اس کے اعضا کی نقل کی، جو زیر صورت صوتی ارتعاش محسوس کرنے میں بڑے حساس ہوتے ہیں۔ Soviet Land, December 1963 اس طرح کی بہت سی مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں، طبیعیاتی سائنس اور ٹکنالوجی درحقیقت نئے تصورات کی نقل قدرت کے زندہ نمونوں سے حاصل کرتی ہے، بہت سے مسائل جو سائنس دانوں کے تخیل پر بوجھ بنے ہوئے ہیں، قدرت ان کو مدتوں پہلے حل کر چکی ہے، پھر جس طرح کیمرہ اور ٹیلی پرنٹر کا ایک نظام انسانی ذہن کے بغیر وجود میں نہیں آسکتا، اسی طرح یہ بھی ناقابل تصور ہے کہ کائنات کا پیچیدہ ترین نظام کسی ذہن کے بغیر اپنے آپ قائم ہو، کائنات کی تنظیم قدرتی طور پر ایک انجینئر اور ایک ناظم کا تقاضا کرتی ہے، اسی کا نام خدا ہے، ہم کو جو ذہن ملا ہے، وہ ناظم کے بغیر تنظیم کا تصور نہیں کر سکتا، اس لیے غیر معقول بات یہ نہیں ہے کہ ہم کائناتی تنظیم کے لیے ایک ناظم کا اقرار کریں، بلکہ یہ غیر معقول رویہ ہوگا کہ ہم کائناتی تنظیم کے ناظم کو ماننے سے انکار کر دیں، حقیقت یہ ہے کہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader