کائنات خدا کی گواہی دیتی ہے
Urdu book, p. 77
By Maulana Wahiduddin Khan
سب سے پہلے زمین کی جسامت کو لیجیے، اگر اس کا حجم کم یا زیادہ ہوتا تو اس پر زندگی محال ہو جاتی۔ مثلاً کرۂ زمین، اگر چاند اتنا چھوٹا ہوتا، یعنی اس کا قطر موجودہ قطر کی نسبت سے ایک چوتھائی 1/4 ہوتا تو اس کی کشش ثقل، زمین کی موجودہ کشش کا 6/1 رہ جاتی، کشش کی اس کمی کا نتیجہ یہ ہوتا کہ ہماری زمین پانی اور ہوا کو اپنے اوپر روک نہ سکتی، جیسا کہ جسامت کی اسی کمی کی وجہ سے چاند میں واقع ہوا ہے، چاند پر اس وقت نہ تو پانی ہے، اور نہ کوئی ہوائی کرہ ہے، ہوا کا غلاف نہ ہونے کی وجہ سے وہ رات کے وقت بیحد سرد ہو جاتا ہے، اور دن کے وقت تنور کے مانند جلنے لگتا ہے، اسی طرح کم جسامت کی زمین جب کشش کی کمی کی وجہ سے پانی کی اس کثیر مقدار کو روک نہ سکیتی جو زمین پر موسمی اعتدال کو باقی رکھنے کا ایک اہم ذریعہ ہے، اور اسی بنا پر ایک سائنس داں نے اس کو عظیم توازنی پہیہ (Great Balance-Wheel) کا نام دیا ہے (دیکھیے The Evidence of God)، اور ہوا کا موجودہ غلاف اگر فضا میں گم ہو جاتا تو اس کا حال یہ ہوتا کہ اس کی سطح پر درجہ حرارت چڑھتا تو انتہائی حد تک چڑھ جاتا، اور گرتا تو انتہائی حد تک گر جاتا، اس کے برعکس اگر زمین کا قطر موجودہ کی نسبت سے دگنا ہوتا تو اس کی کشش ثقل بھی دگنی بڑھ جاتی، کشش کے اس اضافہ کا نتیجہ یہ ہوتا کہ ہوا، جو اس وقت زمین کے اوپر پانچ سو میل کی بلندی تک پائی جاتی ہے، وہ کھینچ کر بہت نیچے تک سمٹ جاتی، اس کے دباؤ میں فی مربع انچ 15 تا 30 پونڈ کا اضافہ ہو جاتا، جس کا رد عمل مختلف صورتوں میں زندگی کے لیے نہایت مہلک ثابت ہوتا، اور اگر زمین سورج کے برابر ہوتی اور اس کی کثافت برقرار رہتی تو اس کی کشش ثقل ڈیڑھ سو گنا بڑھ جاتی، ہوا کے غلاف کی دباؤت گھٹ کر پانچ سو میل کے بجائے صرف چار میل رہ جاتی، نتیجہ یہ ہوتا کہ ہوا کا دباؤ ایک ٹن فی مربع انچ تک جا پہنچتا، اس غیر معمولی دباؤ کی وجہ سے زندہ اجسام کا نشو و نما ممکن نہ رہتا، ایک پونڈ وزنی جانور کا وزن ایک سو پچاس پونڈ ہو جاتا انسان کا جسم گھٹ کر گلہری کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader