Urdu book · مذہب اور جدید چیلنج

کائنات خدا کی گواہی دیتی ہے

Urdu book, p. 78

By Maulana Wahiduddin Khan

برابر ہو جاتا اور اس میں کسی قسم کی ذہنی زندگی ناممکن ہو جاتی، کیوں کہ انسانی ذہانت حاصل کرنے کے لیے بہت کثیر مقدار میں اعصابی ریشوں کی موجودگی ضروری ہے، اور اس طرح کے پھیلے ہوئے ریشوں کا نظام ایک خاص درجہ کی جسامت ہی میں پایا جا سکتا ہے۔ بظاہر ہم زمین کے اوپر ہیں، مگر زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ ہم اس کے نیچے سر کے بل لٹکے ہوئے ہیں۔ زمین گویا فضا میں معلق ایک گیند ہے، جس کے چاروں طرف انسان بستے ہیں، کوئی شخص ہندوستان کی زمین پر کھڑا ہو تو امریکہ کے لوگ بالکل اس کے نیچے ہوں گے، اور امریکہ میں کھڑا ہو تو ہندوستان اس کے نیچے ہوگا۔ پھر زمین ٹھہری ہوئی نہیں ہے۔ بلکہ ایک ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے مسلسل گھوم رہی ہے۔ ایسی حالت میں زمین کی سطح پر ہمارا انجام وہی ہونا چاہیے، جیسے سائیکل کے پہیے پر کنکریاں رکھ کر پہیے کو تیزی سے گھما دیا جائے۔ مگر ایسا نہیں ہوتا۔ کیوں کہ ایک خاص تناسب سے زمین کی کشش اور ہوا کا دباؤ ہم کو ٹھہرائے ہوئے ہیں۔ زمین کے اندر غیر معمولی قوت کشش ہے جس کی وجہ سے وہ تمام چیزوں کو اپنی طرف کھینچ رہی ہے، اور اوپر سے ہوا کا مسلسل دباؤ پڑتا ہے۔ اسی دو طرفہ عمل نے ہم کو زمین کے گولے پر چاروں طرف لٹکا رکھا ہے۔ ہوا کا دباؤ انسانی جسم پر ہر ایک مربع انچ کے اوپر ساڑھے پندرہ پاؤنڈ پڑتا ہے۔ آدمی اس وزن کو محسوس نہیں کرتا۔ کیوں کہ ہوا جسم کے چاروں طرف ہے۔ دباؤ ہر طرف سے پڑتا ہے۔ اس لیے آدمی کو محسوس نہیں ہوتا، جیسا کہ پانی میں غوطہ لگانے کی صورت میں ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ ہوا— جو مختلف گیسوں کے مخصوص مرکب کا نام ہے، اس کے بے شمار دیگر فائدے ہیں، جن کا بیان کسی کتاب میں ممکن نہیں۔ نیوٹن اپنے مشاہدہ اور مطالعہ سے اس نتیجہ پر پہنچا تھا کہ تمام اجسام ایک دوسرے کو اپنی طرف کھینچتے ہیں، مگر اجسام کیوں ایک دوسرے کو کھینچتے ہیں۔ اس سوال کا اس کے پاس کوئی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page