تمهید
Urdu book, p. 8
By Maulana Wahiduddin Khan
لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ جو طرزِ فکر اس طرح دنیا کے سامنے آئے وہ تہذیب کے جامے میں پیوند بن کر تو رہ سکتا ہے مگر وہ خود تہذیب کا جامہ نہیں بن سکتا۔ اس طرح کے تطبیقی بیانات سے اگر کوئی یہ امید رکھتا ہے کہ وہ دنیا کی علمی فضا کو بدل دے گا یا لوگوں کو ناحق سے پھیر کر حق کی طرف لانے میں کامیاب ہوگا تو یہ محض اس کی خوش خیالی ہے۔ افکار میں تبدیلی کے لیے انقلابی لٹریچر کی ضرورت ہوتی ہے، نہ کہ تطبیقی لٹریچر کی۔ یہ صورتِ حال اس وقت اور زیادہ خرابی کا باعث بنتی ہے جب کسی بنیادی اور ہمہ جہتی تصور کے بارے میں اس کا اظہار ہوا ہو۔ ’’شہابِ ثاقب‘‘ کے بارے میں اگر جدید علمائے فلکیات کی کوئی مختلف تحقیق ہو اور اس کو مان کر آپ قرآن میں تاویل کریں تو اس سے کسی بڑی خرابی کا اندیشہ نہیں ہے۔ لیکن اگر کسی ایسے تصور کو قبول کر لیا جائے جو محض ایک جزوی اور منفرد نوعیت کی چیز نہ ہو بلکہ دیگر سوالات سے بھی اس کا براہِ راست تعلق ہو تو سارا فلسفۂ دین اس سے متاثر ہو جاتا ہے۔ اس کی واضح مثال ہماری صف کے وہ پڑھے لکھے لوگ ہیں جنھوں نے نظریۂ ارتقاء کو اس بنا پر قبول کر لیا ہے کہ جدید علماء کا دعویٰ ہے کہ وہ اپنے مطالعے اور تجربے سے اس کی صداقت پر مطمئن ہو چکے ہیں۔ اس نظریے کو مان لینے کی وجہ سے ان کو اسلام کی ایک ارتقائی تعبیر کرنے کی ضرورت پیش آگئی ہے اور اسلام کے جامے کو ارتقاء کی ساخت کے مطابق بنانے کے لیے انھیں پورے کپڑے کو از سر نو تراشنا پڑا ہے۔ مثال کے طور پر ’’ارتقاء‘‘ کا نقطۂ نظریہ چاہتا ہے کہ انسان بہ حیثیتِ نوع مسلسل ترقی کر رہا ہو اور زندگی کے انجام پر سب کو اعلیٰ تر مقام حاصل ہو۔ اس طرزِ فکر کے مطابق ناپسندیدہ صورتِ حال کو ماضی میں ہونا چاہیے، نہ کہ مستقبل میں۔ اس طرح ارتقاء کے فلسفے میں جنت کی زندگی تو مناسب معلوم ہوتی ہے مگر دوزخی زندگی کی تشریح نہیں ہوتی۔ اس دشواری کو حل

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader