تمهید
Urdu book, p. 7
By Maulana Wahiduddin Khan
اور اس کے بعد آپ کو ’’سچا‘‘ ثابت کرنے پر مواد اکٹھا کرنا شروع کر دیا جاتا ہے۔ حالانکہ جھوٹا نبی کہنے کا مطلب یہ ہے کہ سچا نبی بھی ہوتا ہے جب کہ جدید انسان اپنے معلوماتی دائرہ کے مطابق ایسی کسی چیز کے ماننے ہی میں مشتبہ ہے۔ دراصل جھوٹا رسول (false prophet) یہود و نصاریٰ کے مذہبی طبقہ کا پرانا اعتراض ہے جو اپنے انبیائ کی نبوت کو مانتے ہیں مگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے منکر ہیں، ورنہ جہاں تک جدید ملحدانہ ذہن کا تعلق ہے اس کے لیے اصل مسئلہ آپ کے ’’جھوٹے‘‘ یا ’’سچے‘‘ ہونے کا نہیں ہے، بلکہ اس کے سامنے صرف یہ سوال ہے کہ آپ کے کلامِ نبوت کا سر چشمہ کیا ہے وہ اپنے معلوم ذرائع پر قیاس کرتے ہوئے اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ اس کا سر چشمہ انسان کا اپنا لاشعور ہے۔ اور لاشعور سے نکلے ہوئے کلام کو وحی و الہام سے تعبیر کرنا محض ایک استعارہ ہے، نہ کہ کسی حقیقتِ واقعہ کا بیان۔ اس لیے رسالت کی بحث میں صرف آپ کو ’’سچا‘‘ ثابت کرنے سے جدید تقاضے کی تکمیل نہیں ہوتی۔ بلکہ ہمیں یہ بھی بتانا ہوگا کہ الہام کوئی حقیقی چیز ہے۔ وہ مخصوص انسانوں پر اترتا ہے، اور اسی کے اعتبار سے آپ خدا کے رسول تھے۔ یہ تو اس صورتِ حال کی مثال تھی جب کہ جدید فکر کے اصل موقف کو صحیح طور پر سامنے رکھے بغیر اس پر تنقید کی جائے۔ لیکن ایک اور ذہن ہے جو جدید فکر سے واقف ہونے کے باوجود دوسری قسم کی غلطی میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ یہ لوگ اپنی مرعوبیت کی وجہ سے یہ سمجھتے ہیں کہ مغربی اماموں کے نزدیک جن تصورات کو علمی مسلمہ کی حیثیت حاصل ہو گئی ہے وہ یقیناً علمی مسلمہ ہی ہوگی، اس لیے وہ اسلام کی فتح مندی اس میں سمجھتے ہیں کہ ان مسلّمہ تصورات کو قرآن و حدیث سے ثابت کر دکھائیں، یہ اسلام اور غیر اسلام میں مطابقت پیدا کرنے کا وہی انداز ہے جو مغلوب تہذیبیں اپنی غالب تہذیب کے مقابلے میں عموماً اختیار کیا کرتی ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader