Urdu book · مذہب اور سائنس

طریقہ استدلال کا مسئلہ

Urdu book, p. 9

By Maulana Wahiduddin Khan

طریق استدلال کا مسئلہ ٹی ۔ آر ۔ مائلز (T. R. Miles) نے کہا ہے : ”ماضی کے علمائے مذاہب کی مثال ایسے شخص کی سی ہے جس نے ایک بے کار چک (Dud Cheque) لکھ دیا ہو، جس کے لیے بنک میں واقعی رقم موجود نہ ہو۔ یہ لوگ ایسے الفاظ استعمال کرتے رہے جس کے پیچھے معنویت کا سرمایہ نہیں تھا۔ “نا قابلِ تغیر حقیقت اعلیٰ قواعد زبان کی رو سے ایک صحیح جملہ ہے مگر وہ ایک بے کار چک ہے جس کے پیچھے کوئی حقیقی سرمایہ موجود نہیں۔“ Religion and Scientific Outlook, p. 20 اس بیان کا مطلب یہ ہے کہ مذہب کے جو دعوے ہیں ان کی بنیاد کسی دلیل پر قائم نہیں ہے۔ مذہب خالص اعتقادی چیز ہے۔ جب کہ کسی چیز کا حقیقت ہونا اس وقت متحقق ہوتا ہے جب کہ وہ اعتقاد کی اندرونی دنیا سے باہر ثابت کی جا سکے۔ مثلاً ایک شخص کہتا ہے کہ ”کہکشاں نورانی بادل نہیں بلکہ الگ الگ ستاروں کا مجموعہ ہے۔ “ ابتدائی طور پر یہ بیان صرف ایک عقیدہ ہے مگر جب مدعی اسے دوربین کے شیشہ میں دکھادے تو یہ عقیدہ ایک ایسی حقیقت بن جاتا ہے جو ہر ایک کے لیے قابل مشاہدہ ہو۔ مذہب کی صداقتوں کو اس طور پر خارج میں (Demonstrate) نہیں کیا جا سکتا۔ اس لیے مذہب صرف ایک دعویٰ یا عقیدہ ہے۔ اس سے زیادہ اس کو کوئی حیثیت حاصل نہیں۔ آئیے اس سوال کا تجزیہ کریں۔ یہ معیار استدلال جس کا اوپر ذکر ہوا سادہ طور پر ایک واحد چیز نظر آتا ہے۔ مگر عمل میں آنے کے بعد اس کے کئی درجہ بن جاتے ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page