Urdu book · مذہب اور سائنس

طریقہ استدلال کا مسئلہ

Urdu book, p. 10

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کا ابتدائی درجہ یہ ہے کہ جو چیز زیر بحث ہے خود وہ چیز براہ راست ہمارے اپنے تجربے اور مشاہدے میں آجائے۔ مثال کے طور پر ایک شخص دعویٰ کرتا ہے کہ ”پانی میں کیڑے ہوتے ہیں“ بظاہر یہ عجیب سا دعویٰ ہے۔ مگر جب ہم اس دعویٰ کو جانچنے کے لیے پانی کے قطرے کو خورد بین کے شیشے کے نیچے رکھتے ہیں تو واقعی ہمیں نظر آتا ہے کہ پانی کے اندر بے شمار چھوٹے چھوٹے کیڑے بلبلا رہے ہیں۔ دوسرا درجہ وہ ہے کہ جب کہ دعویٰ پورا کا پورا تو نظر نہ آئے مگر اس کے کچھ اجزاء (Patches) دکھائی دے رہے ہوں۔ مثال کے طور پر یہ دعویٰ کہ ”زمین گول ہے“ اپنی پوری شکل میں کسی بھی طرح انسانی مشاہدہ میں نہیں آسکتا۔ مگر اس کی گولائی کے بعض حصوں کو ہم بلاشبہ دیکھ سکتے ہیں۔ مثلاً ایک خلائی جہاز جب اوپر اٹھ کر دوربین کیمرے سے زمین کی تصویر لیتا ہے تو وہ اس میں اسی طرح گول نظر آتی ہے جیسے چاند۔ مگر ظاہر ہے کہ یہ اس کی گولائی کا صرف جزء ہوتا ہے، نہ کہ کل۔ مگر اس طرح کے مشاہدات سے جو حقائق ہمارے ادراک میں آتے ہیں وہ اس دنیا کے بہت معمولی حقائق ہیں۔ ان مشاہدات سے کوئی بھی معنی خیز حقیقت (significant fact) حاصل نہیں ہوتی۔ حالانکہ دنیا کے بارے میں ہمارا تجربہ بتاتا ہے کہ وہ بے شمار معنی خیز حقائق سے بھری ہوئی ہے۔ یہاں جدید ذہن اپنے معیار استدلال میں ایک اور اضافہ کرتا ہے، اور وہ یہ کہ وہ استدلال بھی ایک صحیح معیار استدلال ہے جس میں اگرچہ اصل حقیقت کو براہ راست دکھایا نہ گیا ہو مگر اس کے کچھ ایسے پہلو ہمارے تجربہ میں آتے ہوں جن سے قیاس کیا جاسکے کہ ایسی کوئی حقیقت یہاں پائی جارہی ہے۔ مثال کے طور پر الیکٹران بذات خود ایک ناقابل مشاہدہ چیز

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page